February 9, 2013 - غلام عباس مرزا
21 تبصر ے

CNG بحران اور ممکنہ متبادل

1-MDI-MiniFlowAIRCNG “کمپریسڈ نیچرل گیس” کا مخفف ہے۔ یعنی دباؤ کے تحت بھری گئی قدرتی گیس۔ قدرتی گیس (Methane) کو گاڑیوں میں بطور ایندھن استعمال کرنے کے لیے ہائی پریشر کے ساتھ گاڑی میں لگے مضبوط سیلنڈر میں بھرا جاتا ہے۔ گیس کا دباؤ 200 سے 220 بار تک ہوتا ہے(ایک بار دباؤ کا مطلب ہے کہ ایک کلوگرام وزن فی مربع سینٹی میٹر)۔ اس قدر ہائی پریشر اس لیے رکھا جاتا ہے تاکہ گیس کی ذیادہ سے ذیادہ مقدار سیلنڈر میں محفوظ کی جا سکے۔ چونکہ CNG پیٹرول اور ڈیزل کے مقابلے ایک سستا ایندھن ہے اس لیے پچھلے کچھ سالوں میں اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آيا ہے۔2011 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 28 لاکھ سے ذیادہ CNG گاڑیاں تھیں اور اس لحاظ سے دنیا میں ہمارا دوسرا نمبر تھا۔ CNG گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے CNG فلنگ سٹیشنز کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔ اوگرا(OGRA) کے مطابق اس وقت ملک میں چالو CNG سٹیشنز کی تعداد 3330 ہے۔ CNG کی بڑھتی ہوئی طلب ملک میں قدرتی گیس کے شارٹ فال کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت قدرتی گیس کی طلب 5777 ملین مکعب فٹ فی دن ہے جبکہ فراہمی 1605 ملین مکعب فٹ فی دن کے شارٹ فال کے ساتھ 4172 ملین مکعب فٹ فی دن ہے۔ جہاں قدرتی گیس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے وہاں پیداوار میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اگر شارٹ فال اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو 2020 میں یہ بڑھ کر 5247 تک پہنچ جائے گا۔ ان عدادو شمار کو دیکھتے ہوئے ہم واضع طور پر کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں CNG ایندھن اور اس سے جڑے کاروبار کا مستقبل بالکل بھی اچھا نہیں۔cobey-cng-filling-station-diagram
قدرتی گیس کے شارٹ فال کو جہاں ہم نئے ذخائر کی تلاش اور ایران گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس کی درآمد ممکن بنا کر کم کر سکتے ہیں وہاں ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ابھی ہم گاڑیوں میں ایندھن کے ایک ایسے ہی ممکنہ متبادل پر بات کریں گے۔

سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ AIR CAR یا ہوا سے چلنے والی گاڑی کیا ہے اور کس طرح یہ CNG گاڑیوں کا متبادل ہو سکتی ہے۔ ہوا سے چلنے والی کار میں CNG پر چلنے والی گاڑیوں کی طرح سیلنڈرز نصب ہوتے ہیں مگر ان میں قدرتی گیس کی بجائے عام ہوا بھری جاتی ہے، وہ ہی عام ہوا جس میں ہم سانس لیے رہے ہیں۔ اس کار میں ایسا انجن نصب ہوتا ہے جو دبا‎ؤ کے تحت بھری گئی ہوا سے چلتا ہے۔ یعنی اس میں روائتی انجن کی طرح اندرونی طور پر کوئی ایندھن نہیں جلایا جاتا بلکہ طاقت ور دباؤ والی ہوا انجن کے پسٹن کو دبا کر اس میں حرکت پیدا کرتی ہے۔ یہ انجن روڈ پر کوئی آلودگی پیدا نہیں کرتا اور اس کے ایگزاسٹ سے دھوئیں کی بجائے صاف اور ٹھنڈی ہوا خارج ہوتی ہے۔
MDI یعنی Motor Development International ایک فرانسیسی کمپنی ہے جس کی بنیاد ایک مکینیکل انجینئیر Guy NEGRE نے رکھی جو کہ 1997 سے ہوا سے چلنے والے انجن پر کام کر رہے ہیں۔ اس کمپنی نے دباؤ کے تحت بھری گئی ہوا سے چلنے والی گاڑیوں کے کئی ایک ماڈلز(Prototype) بنائے ہیں. آپ یہاں کلک کر کے یہ ماڈلز ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ MiniFlowAIR نامی گاڑی انہی ماڈلز میں سے ایک ہے۔ اس گاڑی میں کاربن فائبر کے سیلنڈرز لگائے گئے ہیں جن میں 300 بار پریشر کے ساتھ ہوا بھری جاتی ہے۔ یہ گاڑی ناصرف 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ یہ ایک دفعہ ہوا بھر کر 180 کلومیٹرز تک کا فاصلہ بھی طے کر سکتی ہے۔ سٹیشن پر گاڑی کی ریفلنگ میں صرف تین سے پانچ منٹ لگتے ہیں، جبکہ گھر پر چار سے پانچ گھنٹوں میں ایک مخصوص مشین کے ذریعے گاڑی کی ریفلنگ کی جا سکتی ہے۔ اس گاڑی میں لگے انجن کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ اس سے خارج ہونے والی ہوا پھیلاؤ کی وجہ سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور اسے سخت گرمی میں انجن پر بغیر کسی اضافی بوجھ کے گاڑی کی ائیر کنڈشنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس گاڑی کی لبریکیشن کا خرچ بھی روائتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی نسبت بہت کم ہے۔ مختصر انجن، فائبر گلاس اور ایلومینیم سے بنی ہلکی باڈی ہونے کی وجہ سے قدرے کم قیمت میں ایسی گاڑیاں بنائی جا سکتی ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہوا سے چلنے والی گاڑی کس طرح CNG گاڑیوں کا متبادل ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان میں ہوا سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کروائی جایں اور ہمارے ملک میں پہلے سے موجود CNG سٹیشنوں سے قدرتی گیس بھرنے کی بجائے ہوا بھرنے کا کام لیا جائے تو بات بن سکتی ہے۔ اس طرح سٹیشن بغیر کسی رکاوٹ کے 24 گھنٹے ہوا بھرنے کا کام کر سکیں گے۔ انہیں کسی قسم کے گیس کنکشن کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی اور اس طرح نہ انہیں قدرتی گیس کے بھاری بل دینے پڑیں گے اور نہ لوڈشیڈنگ سے کاروباری نقصان کا ڈر رہے گا۔ کسی بھی شہر میں ابتدائی طور پر کچھ گاڑیاں امپورٹ کر کے اور ایک دو سی این جی سٹیشنوں کو ہوا بھرنے کے لیے تیار کر کے ابتدائی تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ کامیاب رہے تو اسے مزید دوسرے علاقوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ ہوا والی گاڑی اگر لمبے راستوں کے لیے موزوں نہ بھی ہو تو اندرون شہر بخوبی کام دے سکتی ہے۔ اس طرح شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی میں بھی قابل ذکر کمی آئے گی۔
ہماری ملک میں لگے CNG سٹیشنوں میں جو مشینری استعمال ہوتی ہے وہ عام طور پر 250 بار تک پریشر بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ MDI کی بنائی گئی ہوا سے چلنے والی گاڑیوں میں 300 بار پریشر درکار ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے 250 بار پریشر پر چلنے والی گاڑیاں ڈیزائن کروائی جا سکتی ہیں یا پھر سٹیشنوں میں لگی مشینری کو 300 بار پریشر کے لیے اپگریڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہوا سے چلنے والی گاڑی کے ایسے ماڈل بھی بنائے گئے ہیں جو ایک دفعہ کی فلنگ سے 200 کلومیٹر فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ جبکہ عام طور پر CNG سے چلنے والی گاڑی ایک فلنگ میں اتنا “مایلیج” نہیں دے سکتی۔اس کے علاوہ ہوا بھرنے کا خرچ CNG کے مقابلے بہت کم ہو جائے گا یعنی جہاں CNG کار کی ایک فلنگ 600 روپے کے لگ بھگ ہوتی ہے وہاں ہوا والی گاڑی کی ایک فلنگ صرف ڈیڑھ سو روپے میں ہو سکے گی۔
میں اس بارے میں مزید تکنیکی تفصیل اور اعداد و شمار دینا چاہتا تھا مگر پوسٹ لمبی ہو جائے گی اور ویسے بھی ایسی غیر دلچسپ تحریر کم ہی لوگ پڑھتے ہیں۔ آخر پر امید کرتا ہوں کہ شاید میری یہ تحریر ارباب اختیار اور تکنیکی لوگوں کی توجہ حاصل کر سکے۔ جاتے جاتے بتاتا چلوں کہ بھارتی موٹر ساز کمپنی ٹاٹا موٹرز نے 2009 میں MDI سے ٹیکنالوجی کے اشتراک کامعاہدہ کیا تھا اور اب ٹاٹا موٹرز ہوا سے چلنے والی گاڑی مارکیٹ میں لانے کے بالکل قریب ہے۔ جہاں پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں بھارت سے کسی صورت پیچھے نہیں رہنا چاہتا کیا وہاں ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی برابری کے لیے ویسے ہی جذبے کی ضرورت نہیں؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 21 تبصرے برائے تحریر ”CNG بحران اور ممکنہ متبادل

  1. دیکھیں جی دو جمع دو چار والی بات ہے۔ آپ ان پٹ سے زیادہ آؤٹ‌ پٹ‌نہیں‌لے سکتے۔ سی این جی کی صورت میں ایندھن جل کر توانائی پیدا کرتا ہے۔ آپ کی بیان کردہ ٹیکنالوجی میں پریشر سے حرکت پیدا ہو گی۔ پریشر کیسے پیدا ہو گا؟ اس کا جواب ہے کہ پمپ پیدا کرے گا جو بجلی یا کسی بھی رکازی ایندھن پر چلے گا۔ ان پٹ‌ اور آؤٹ‌ پٹ‌کی مساوات کو لاگو کیا جائے تو پمپ کے لیے زیادہ ایندھن کی ضرورت ہو گی، یعنی توانائی درکار ہو گی جس کا سیاپا پڑا ہوا ہے۔
    آپ کی دکھائی گئی تصویر میں ہماری صابن دانی کاروں سے بھی ٹھگنی کار نظر آ رہی ہے۔ یہاں تو ہنڈا سٹی، اور سیلون والے سی این جی لگوائی پھرتے ہیں۔ ان کے پریشر انجن اگر بن بھی گئے، تو بہت زیادہ توانائی کھائیں گے۔
    کان کو ادھر سے پکڑ‌ لیں یا اُدھر سے۔ نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ذرائع توانائی کی ضرورت ہے: شمسی توانائی، پون چکیاں، ایٹمی تونائی، پن بجلی، قدرتی گیس کچھ بھی ہو۔ ہوا میں‌قلعے تو کئی تعمیر ہو جاتے ہیں، اپنا کراچی والے وقار سندھی صاحب کو ہی دیکھ لیں جو پانی سے کار چلائی پھرتے تھے۔ اور اب جیل میں چکی چلا رہے ہیں شاید۔

    1. آپ کی بات درست ہے کار چلے گی تو ظاہر ہے توانائی کی ضرورت ہو گی۔ اصل میں ہوائی گاڑی بجلی کی توانائی کو ہی استعمال کرے گی لیکن اس سے بہت سی توانائی ضائع ہو نے سے بچ جائے گی۔ جیسے سی این جی کی صورت میں جو توانائی گیس کو کمپریس کرنے پر خرچ ہوتی ہے وہ ضائع ہو جاتی ہے۔ دوسری بات ہوا پر چلنے والی کار ہلکی ہے اس لیے کم توانائی پر چلتی ہے اور حرارت کی شکل میں توانائی ضائع بھی نہیں کرتی۔ پھر اسے گاڑی کی ائیر کنڈیشنگ لیے اصافی فیول کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ سی این جی سٹیشنز کی شکل میں پہلے سے موجود مشینری کام آ جائے گی جو قدرتی گیس کے نہ ہونے کی وجہ سے بیکار ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ روڈ پر آلودگی نہیں پھیلاتی۔ باقی یہ لگژری کی نہیں کفایت کی بات ہے۔

  2. ہمارے ملک میں ہوا ہی وہ واحد شے ہے جو بڑی مقدار میں اور مفت دستیاب ہے۔ آپ اس قسم کا آئیڈیا دے کر ہوا کی بھی شارٹیج کرنا چاہتے ہیں؟

  3. ٹاٹا کی ہوا سے چلنے والی گاڑی کے متعلق کچھ عرصہ قبل سنا تھا، اور ہوا سے انجن کے چلنے کے متعلق تفصیلی مضمون پڑھ کر اچھا لگا، تاہم پاکستان میں کوئی ایسا کام ہونا مشکل ہے جس میں عوام کا فائدہ ہو سکے، نہ صرف انتظامیہ بلکہ چھوٹے موٹے سرکاری افسران سے لے کر کلرکوں تک ایسا کوئی بھی نہیں چاہے گا۔

    1. یاسر بھائی آپ کی بات ٹھیک ہے۔ نیچے سے اوپر تک ایک ہی رنگ ہے۔ باقی اللہ بہتر کرے گا انشاء اللہ تبدیلی ضرور آئے گی چاہے ہماری اگلی نسل دیکھے یا اس سے اگلی۔

  4. میرے خیال میں تو پاکستان کے لیئے شمسی توانائی ایک بہترین حل ہے بجلی پیدا کرنے کا اور اس توانائی کو اس طرح کی گاڑیوں میں استعمال کرنے کا ۔ لیکن کرے کون ؟ انفرادی سطح پر ہی ممکن ہے یا پھر غیر ملکی سرمایہ کاری سے ۔

    1. اگر ایسی گاڑیوں کی ریفلنگ میں استعمال ہونے والی توانائی شمسی، ہوائی یا پن بجلی سے آئی ہو تو یہ گاڑی سو فیصد آلودگی سے پاک ہو گی۔ لیکن آپ کی بات ،کرے گا کون۔ ۔ ۔

  5. سیدھا سا حل ہے بڑے بھائی کہ پیٹرولیم کی مصنوعات پر کئی گنا منافع کمانا ترک کردیا جائے۔
    ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق اگر خام تیل کو او جی ڈی سی سے ریفائن کرایا جائے تو ایک لیٹر تیل کی قیمت 20 روپے سے زیادہ نہیں بنتی۔ اس میں خام تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ سے پاکستان تک کی ترسیل کا خرچہ بھی شامل ہے۔
    حکومت کہتی ہے کہ ہم پہلے ہی بہت زیادہ سبسڈی دے رہے ہیں۔ ان حرام خوروں سے کوئی پوچھے کہ سبسڈی کا مطلب کیا ہے۔ کمائی کا ایک آسان دھندا۔۔ عوام کی جیب پر ڈاکا۔
    پتا نہیں کب وہ وقت آئے گا کہ عوام اس ملک کے وسائل میں برابر کے شریک ہوں گے۔

  6. معلوماتی تحریر ہے۔

    جزاک اللہ۔ کم از کم اس مسئلے بارے شعور تو بیدار ہو رہا کہ توانائی کا رولا بڑھنے والا ہے، کوئی متبادل تلاشنا چاہئے

  7. مرزا صاحب، کل پرسوں‌کی خبر تھی کہ پاکستان میں‌ہیپاٹائٹس کا سستا انجکشن بن سکتا ہے مگر افسران بالا کمیشن کے چکروں میں‌نہیں بنانے دے رہے۔ ایسا کوئی بھی کام جس میں سیاہ ستدانوں کا ذاتی مفاد نا ہوگا وہ پاکستان میں‌نہیں‌ہو پائے گا۔ یہاں‌پر تو روزمرہ کی ضرورت چینی جیسی چیز کا بحران ذاتی مفاد کیلئے پیدا کر کے اسے عنقا کر دیا گیا چہ جائیکہ کہ اتنے بڑے توانائی بچانے والے کام، کون ہونے دے گا ایسے کام پاکستان میں؟
    توانائی کی مصنوعی یا حقیقی قلت اپنی جگہ مگر اس کے کیا نقصانات ہیں وہ سامنے آتے جا رہے ہیں‌جسی کی تازہ ترین مثال کل چین کی یہ خبر کہ اس نے پاکستان سے اپنے سارے آرڈر کینسل کر کے انڈیا کو دیدیئے۔
    کرپشن کس طرح وطن عزیز کے ہر چھوٹے بڑے اہلکار میں‌سرایت کر گئی ہے کی مثال کینیڈا سے آنے والے میرے ایک دوست نے دی جو سیر کیلئے شاہ جہان کے مقبرے پر چلا گیا جہاں‌پارکوں میں‌گھاس بے ترتیب اور بڑھی ہوئی تھی تھی جبکہ بیلدار اور مالی پاس ہی گپیں ہانک رہے تھے۔ ان صاحب نے کہا کہ بھائیو اگر یہ گھاس کاٹ دو تو پارک خوبصورت ہو جائیگا جو کہ اب جھاڑ جھنکار لگ رہا ہے۔ مالیوں نے جواب دیا صاحب اپنا کام کیجئے یہ گھاس نہیں نوٹ‌ہیں، تھوڑا بڑا ہونے پر کاٹیں‌گے اور بیچ دیں‌گے۔
    اللہ کرے میزائیل بنانے کے مقابلوں‌کے بعد یہاں‌کوئی ادارہ ایسے کاموں‌میں‌بھی مقابلے بازی پر اترے۔

    1. آپ ہی کی بات بڑی ہوتی ہے۔ ایک دفعہ ہمارے ایک ملنے والے فوجی افیسر نے کہا پاکستان کے لوگوں کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ “مینوں کی لبھے دا” یعنی مجھے کیاملے گا۔ ہر کوئی ذاتی مفاد چاہتا ہے، ملکی مفاد کون دیکھے۔

  8. بابا جی بات تو درست ہے۔ لیکن ہے مشکل۔ مشکل کیوں ہے اس بارے میں تو سب نے یہی کہا ہے کہ کرے گا کون۔ جب عام بندے کے پاس اور خاص بندے کے پاس ایک ہی چیز ہو گئی تو دونوں میں فرق کیا ہوگا، کچھ نہیں۔ اسی فرق کو ہی تو قائم رکھنا ہے۔ ہمارے لیے سرکاری تعلیم جو ایسے استاد پڑھاتے ہیں جن کو خود کچھ نہیں آتا۔ اور ان کے بچوں کے لیے انگریزی تعلیم جو لاکھوں خرچ کر کے حاصل کی جاتی ہے۔
    کوئی عوام کا فائدہ کیوں سوچے گا

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *