محفوظات برائے ”سائنس اور ٹیکنالوجی“ زمرہ
June 26, 2016
7 تبصر ے

کوانٹم مکینکس

اس موضوع سے جڑے پچیدہ ریاضیاتی پس منظر اور دقیق مساواتوں سے قطع نظر کچھ سادہ مثالوں سے "کوانٹم مکینکس" کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی پہلے کچھ باتیں کلاسیکل مکینکس بارے۔ سترھویں صدی میں کلاسیکل مکینکس کی باقاعدہ ابتدا مشہور انگریز سائنسدان سر آئزک نیوٹن نے کی تھی، اسی حوالے سے اسے نیوٹن کی مکینکس بھی کہا جاتا ہے۔ طبعیات میں کلاسیکل مکینکس قوت اور اس کے تحت اجسام میں پیدا شدہ حرکات کا علم ہے، مثلاً کلاسیکل مکینکس کے فارمولوں سے ہم اجسام کی حرکت، رفتار، مقام، گردش، حرکت کے راستے وغیرہ کا ٹھیک ٹھیک حساب لگا سکتے ہیں۔ ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ←  مزید پڑھیے
February 12, 2016
2 تبصر ے

ایٹم کی کہانی

ہائی سکول میں پڑھائی گئی سائنس میں ہمیں ایٹم اور اس کی ساخت بارے جو کچھ بھی پڑھایا جاتا ہے اور جو بھی تفصیلات بتائی جاتی ہیں وہ اگر ہمیں نہ بھی یاد ہوں تو کم از کم دو چیزیں ضرور ذہن میں رہ جاتی ہیں، اوّل لفظ "ایٹم" اور دوسرا اس سے جڑا یہ تصور کہ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے۔ چلیں! ہم اپنی کہانی کا آغاز بھی انہی دو باتوں سے کرتے ہیں۔ لفظ ایٹم قدیم یونانیوں نے استعمال کیا تھا جس کا مطلب ہے ناقابل تقسیم، یعنی "وہ" جس سے چھوٹا کچھ نہ ہو۔ ہم سکول میں بھی یہ ہی پڑھتے ہیں کہ ایٹم مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم ایٹم کو مادے کی اکائی تو کہہ سکتے ہیں مگر یہ ناقابل تقسیم یا مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ نہیں ہوتا۔ ایٹم بھی کئی چھوٹے معلوم اور نامعملوم ذرات پر مشتمل ہوتا ہے اور اب تک ایٹم کے اندر دسیوں ذرے دریافت ہو چکے ہیں جبکہ←  مزید پڑھیے
April 16, 2014
15 تبصر ے

کشش ثقل

کشش ثقل یا گریوٹی(Gravity)،کائنات کے بڑے رازوں میں سے ایک۔ ایک ایسی قوت جو نہ صرف ہمیں زمین پر ٹکائے ہوئے ہے بلکہ سیاروں ستاروں کہکشاؤں کو بھی آپس میں اسی نے باندھ رکھا ہے۔ یہ کشش ثقل ہی ہے...←  مزید پڑھیے
March 1, 2014
22 تبصر ے

روشنی

کئی دنوں سے اس موضوع پرکچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر مصروفیت کچھ ایسی بے ترتیب اور غیر متوقع سی رہی کہ ناکام رہا۔ آپ میری اس وضاحت کو سستی کا جواز سمجھ لیجیے۔ کبھی کبھی تو صورت حال کچھ...←  مزید پڑھیے
December 22, 2012
16 تبصر ے

وقت

“میرے پاس وقت نہیں ہے؟”، “مجھے افسوس ہے میں وقت پر نہ پہنچ سکا”، ” وقت کی قدر کرنی چاہیے”، گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا”، “وقت پیسہ ہے”۔ ہم ایسے کئی فقرے روز بولتے ہیں جن میں وقت کا...←  مزید پڑھیے