February 6, 2018 - غلام عباس مرزا
تبصرہ کریں

کیا اور کون ہے خدا؟

یہ بہت دلچسپ سوال ہے کیونکہ آدھی سے ذیادہ انسانیت خدا پر یقین رکھتی ہے۔ ہر ایک مذہب میں خدا کی ایک اپنی تعریف پائی جاتی ہے جو کہ کسی دوسرے مذہب کی تعریف سے کافی مختلف ہوتی ہے۔ اس زمین پر ساڑھے تین سو سے ذیادہ مذہب موجود ہیں لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر ساڑھے تین سو خدا پائے جاتے ہیں۔ خداوں کا یہ جلوس جس میں ہر ایک دوسرے سے کافی مختلف نظر آتا ہے انسان کے لیے الجھن کا باعث بن جاتا ہے، یہاں تک کہ انسان یہ کہے کہ سرے سے کوئی خدا موجود ہی نہیں ہے اور تصورخدا محض انسانی ذہن کی ایجاد ہے۔ کچھ عمرانی ماہرین اپنے اس نکتہ نظر کے ساتھ سامنے آتے ہیں کہ خدا مذہبی پیشواوں یا سیاستدانون کا من گھڑت تصور ہے جو انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بنایا، اس طرح کچھ درپردہ عزائم کی خاطر خدا کا تصور گھڑ لیا گیا۔ یہ سب اس لیے بھی ٹھیک لگ سکتا ہے کہ خدا کبھی خود آ کر نہیں کہتا کہ سنو! کہ میں خدا ہوں۔
میں یہ سب اس لیے کہہ رہی ہوں کہ خدا کو ذیادہ تر مذاہب میں ایک شخصیت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ ایک بڑی شان شوکت والا عظیم ترین فوق البشر قسم کا شخص جو عظیم الشان سونے کے تحت پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کی مرضی ہے چاہے تو دنیا بنا دے اور چاہے تو تباہ کر دے۔ ذیادہ تر مذاہب میں خدا کے کچھ اسی طرح کے خاکے کو ماننے کا رجحان پایا جاتا ہے جبکہ اس کے ماننے والے خدا سے متعلق اپنا ایک ذاتی طرز کا بت یا تصور رکھتے ہیں اور اس سے جڑی کچھ مخصوص رسم و رواج جن پر وہ بہت کٹر طریقے سے یقین کرتے ہیں۔
بہت اہم بات جو کہ سمجھ لینی چاہیے کہ ایک انسانی ذہن جو خداوں کے متعلق معلومات سے بھرا پڑا ہے اس کے لیے یہ بات بہت غیر حقیقی لگتی ہے کہ خدا کو ذاتی تجربے سے جانا جائے یا سچ میں معلوم کیا جائے کہ خدا حقیقت میں ہے کیا۔
میں سچ کہوں تو اس دنیا میں اور ہماری زندگیوں میں جو بھی خوبصورت ترین چیزیں پائی جاتی ہیں محض الفاظ کے بل بوتے پر ان کی تعریف اور وضاحت ممکن نہیں ہوتی، کہ وہ ہمیں کیسے محسوس ہوتی ہیں یا کیسی معلوم ہوتی ہیں۔ جسے گلاب کی خوشبو یا کسی بہترین پرفیوم کی خوشبو کی مثال لے لیجیئے۔ اگر کوئی پوچھے کہ یہ خوشبو آپ کو کیسی لگتی ہے تو آپ کیسے بتایں گے؟۔ اگر وضاحت میں تمام کے تمام الفاظ بھی لگا دیئے جایں جو بھی ایک بہت بڑا شاعر جانتا ہے، کتابوں کے دفتر لکھ دیئے جایں، لیکن آخر میں آپ کو یہ ہی کہنا پڑے گا کہ براہ مہربانی آپ شیشی سے ایک جھونکا سونگھ لیجیئے۔ اصل میں یہ ہی واحد طریقہ ہے جاننے کا کہ کوئی مخصوص خوشبو کیسی ہے۔
یہ ہماری زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں ہم اپنی زندگیوں میں اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ شروع دن سے محسوس کرتے آئے ہیں اور پایا ہے کہ ان محسوسات کو الفاط میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ الفاظ کی کچھ حدود ہوتی ہیں اور یہ ہی حال ذہن کا بھی ہے۔ جو چیزیں ذہن کی حدود سے باہر ہوں الفاظ ان کی وضاحت کیسے کر سکتے ہیں؟۔
اب ہم جب پوچھتے ہیں “خدا کون ہے؟” تو اس سوال کے کئی جواب پہلے سے موجود ہیں جو دے ديئے جاتے ہیں۔ بنے بنائے گھڑے گھڑائے تیار جواب۔ راہبوں کے جواب، مبلغوں کے جواب، کتابوں کے جواب، صحیفوں کے جواب، اتاروں کے جواب۔۔۔۔ لیکن انسانی ذہن پھر بھی کھوج کرنا چاہتا ہے کہ اس سب کا آخر مطلب کیا ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ ایسی چیز ہے جس کی وضاحت کوئی بہت ارفع اور بصیر شخص بھی نہیں کر سکتا، چاہے وہ زندہ ہو یا زندہ نہ ہو، اپنے خاکی جسم میں موجود ہو یا غیر موجود۔ یہ ایسی چيز ہے جس کی کھوج اور جانچ خود ہی کرنا پڑتی ہے مثلا جیسے درد۔ درد ایک ایسی چیز ہے جسے آپ خود جانتے ہو۔ اگر کوئی اسے ناپنے کے لیے کہے کہ کتنے انچ کا درد ہے یا کتنے سینٹی میٹرز کا درد ہے؟ یا کوئی پوچھے کتنا گہرا درد ہے سو فٹ گہرا؟ پانچ سو فٹ گہرا؟ تو آپ جواب دیں گے “ایسے نہیں یہ جاننے کے لیے آپ کو خود درد سہنا ہو گا”۔
یہ کچھ اسی طرح کی بات ہے۔ میں واضع طور پر کہوں گی کہ خدا کوئی شخصیت نہیں ہے۔ وہ کوئی اعلی ارفع فوق البشر نہیں ہے اور نہ وہ کسی انسان جیسا ہے جو اوپر آسمان میں کہیں کسی سونے کے تحت پر بیٹھا ہو۔ خدا ہمارے ذہنی سانچے سے باہر ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا “حقیقت” ہے۔ اور یہ “حقیقت” بہت حد تک اضافیت کے تصور جیسی ہے۔ کہ ہم چیزوں کو کیسا پاتے ہیں، ہو سکتا ہے حقیقت میں وہ ویسی نہ ہوں جیسی لگتی ہیں۔ ہم یہ جو دنیا دیکھ رہے ہیں درحقیقت یہ بہت مختلف ہے۔ جب میں کہتی ہوں کہ خدا “حقیقت” ہے تو “حقیقت” سے مراد جوہر ہے، “سچ” کا جوہر۔ یہ “سچ” وہ سچ نہیں ہے جس کا ذکر ہم روزمرہ زندگیوں میں کرتے رہتے ہیں، سچ اور جھوٹ، میں اس سچ کی بات نہیں کر رہی۔ جب میں کہتی ہوں “سچ” تو اس کا مطلب ہے “وجود”۔ سو اس طرح میں کہہ سکتی ہوں کہ خدا ایک وجودی حقیقت ہے اور جیسے صرف ذاتی تجربے سے جانا جا سکتا ہے اور یہ تجربہ صرف ان لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اس بات کی منطقی طلب اور رغبت رکھتے ہیں۔ وہ کسی کھوجی کی طرح چلتے ہیں۔ وہ جو اپنے اندر کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ذہن کی تہوں کو پھرولتے ہوئے شعور کے گہرے سمندر جیسے احساس تک پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے پہل یہ احساس سویا ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ جاگنے لگتا ہے۔ ذہن او شعور کی ان لہروں کے اتار چڑھاو میں آنے والے وقفوں میں اچانک کچھ ظاہر ہوتا ہے، جو ہمیں پہلی جھلک دکھلاتا ہے کہ “سچ” کیا ہے اور خدا کیا ہے۔ لیکن یقینا بغیر شکل کے، تجریدیی، البتہ غیر تصوراتی، یہ تصوراتی نہیں ہے۔ یہ ویسا ہی حقیقی ہے جیسے حقیقی میں اور آپ ہیں۔ ہم ہر چیز کے وجود کا انکار کر سکتے ہیں مگر ہم اپنی ذات کا انکار کبھی نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنی ذات کو جاننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے لیکن صرف ذہن سے نہیں، صرف لفظوں سے نہیں، صرف الہامی کلام سے نہیں مگر ذاتی تجربے سے اور یہ ذاتی تجربہ مراقبے سے حاصل ہوتا ہے۔ لہذا میرے پاس کوئی آسان وضاحت نہیں ہے جو میں پیش کر سکوں، آسانی سے آئی چیزیں آسانی سے چلی بھی جاتی ہیں۔
(بھارت سے تعلق رکھنے والی “Anandmurti Gurumaa ” کے ایک انٹرویو کا اردو ترجمہ، مترجم: غلام عباس مرزا)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *