April 16, 2014 - غلام عباس مرزا
16 تبصر ے

کشش ثقل

کشش ثقلکشش ثقل یا گریوٹی(Gravity)،کائنات کے بڑے رازوں میں سے ایک۔ ایک ایسی قوت جو نہ صرف ہمیں زمین پر ٹکائے ہوئے ہے بلکہ سیاروں ستاروں کہکشاؤں کو بھی آپس میں اسی نے باندھ رکھا ہے۔ یہ کشش ثقل ہی ہے جس کی بدولت زمین سورج کے گرد محو گردش ہے اور چاند زمین کے چکر کاٹ رہا ہے۔ ہمارے تمام مصنوعی سیارے جن میں مواصلاتی سیارے، جی پی ایس کے سیٹلائیٹ، کئی تحقیقاتی سیارے، حبل دوربین اور متعدد خلائی سٹیشن یہ سب کشش ثقل ہی کے سہارے خلا میں معلق رہتے ہیں۔ یہ کشش ثقل ہی ہے جس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم ڈیم بنا کر پانی سے بجلی پیدا کریں، اسی قوت کے سبب بارش کے قطرے زمین کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور یہ ہی وہ قوت ہے جو ہمارے اردگرد موجود تمام چیزوں کو زمین پر جمائے رکھتی ہے۔ یہ ہی وہ طاقت ہے جو گرم گیسوں سے بنے سورج کو بکھرنے نہیں دیتی اور اسی نے سیاروں کو اپنے مداروں کا پابند بنا رکھا ہے۔ یہ قوت ہمیں ہر وقت محسوس ہوتی رہتی ہے۔ ‎سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے ہوئے، کوئی وزن اٹھاتے اور نیچے رکھتے ہوئے، تالاب میں کنکر پھینکتے اور چھلانگ لگاتے ہوئے ہر جگہ ہر وقت یہ ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ ہمارے جسم اور اندرونی عضا پر مسلسل اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔ لیکن اس پراسرار قوت کی حقیقت کیا ہے؟ اس بے مثال طاقت کے سوتے کہاں سے پھوٹتے ہیں؟ اخر اس ثقلی کھچا‎ؤ(Gravitational pull) کا مرکز کہاں ہے؟
زمان و مکاں
نیوٹن اور کشش ثقل

اس موضوع پر گفتگو کا آغاز ساڑھے تین صدیاں پہلے انگریز سائنسدان سر آئزک نیوٹن کے سیب گرنے والے گھسے پٹے واقعہ سے ہی کرنا پڑے گا۔ نیوٹن وہ سائنسدان تھا جسے نہ صرف کشش ثقل کے تصور بلکہ جدید طبعیات کا باپ مانا جاتا ہے۔ جب نیوٹن نے گرتے ہوئے سیب کو دیکھا تو سوچا، آخر ایسا کیا ہے جس نے سیب کو زمین کی طرف کھینچا؟ نیوٹن ایک ذہین شخص تھا لہذا اس کی سوچ یہاں تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے مزید سوچا کہ اگر سیب گرتا ہے تو چاند کو بھی گرنا چاہیے اور زمین سے ٹکرا جانا چاہیے، لیکن ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ انہی سوالوں کو لے کر نیوٹن نے مزید غوروحوض کیا اور کشش ثقل کا قانون پیش کیا۔ نیوٹن نے کہا کہ کائنات میں موجود ہر مادی چیز دوسری مادی چیز کو ایک خاص قوت سے اپنی طرف کھینچتی ہے جسے کشش ثقل کہتے ہیں۔ کھچا‎ؤ کی اس قوت کا انحصار دونوں مادی اجسام میں موجود مادے کی مقداروں اور ان کے درمیانی فاصلہ پر ہوتا ہے۔ اجسام میں مادے کی مقدار جتنی ذیادہ ہو گی ان کے درمیان پائی جانے والی کشش بھی اتنی ذیادہ ہو گی، اجسام کا درمیانی فاصلہ جس قدر بڑھتا جائے گا کشش بھی اسی حساب سے کم ہوتی جائے گی۔ نیوٹن نے چاند کی گردش کا حساب لگایا اور کہا کہ چاند کشش ثقل کے زیر اثر مسلسل زمین پر گر رہا ہے، مگر وہ اپنی گردشی رفتار کی وجہ سے کبھی بھی زمین سے نہیں ٹکراتا۔ یعنی چاند ایک مخصوص رفتار سے اپنے مدار میں گھوم رہا ہے اور اگر اس کی رفتار کو کسی طریقے سے کم کردیا جائے یا روک دیا جائے تو وہ کچھ ہی وقت میں زمین سے ٹکرا جائے گا۔ یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ نیوٹن نے کشش ثقل کے اس قانون کی جو مساوات دی وہ آج بھی رائج ہے اور بالکل ٹھیک کام کرتی ہے۔ چاند پر بھیجے گئے اپولو مشن سمیت آج بھی خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں، مصنوعی سیاروں اور ان کے مداروں کا حساب لگانے کے لیے نیوٹن کی مساواتوں کا کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال عجیب بات یہ ہے کہ نیوٹن جس نے دنیا کو کشش ثقل کے تصور سے روشناس کرایا اور اتنی اہم مساواتیں دیں کشش ثقل کی حقیقت بارے کچھ نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے، کہاں سے آتی ہے اور کیسے کام کرتی ہے۔
نیوٹن نے کشش ثقل کی جو وضاحت پیش کی وہ کچھ یوں ہے کہ کشش ثقل بغیر کسی واسطے کے اثرانداز ہونے والی قوت ہے اور یہ بالکل اسی طرح کام کرتی ہے جیسے کسی چیز کو رسی سے باندھ کر کھینچا جائے۔ کشش ثقل کے کھچا‎ؤ کا رخ اجسام کے مرکزوں کی طرف ہوتا ہے اور اس قوت کو اثر انداز ہونے کے لیے وقت اور واسطہ درکار نہیں ہوتا۔ اگر دو جسموں کے درمیان بہت طویل خلا ہے تب بھی یہ قوت وقت لیے بغیر یکساں طور پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔
آئین سٹائین اور کشش ثقل
نیوٹن سے ڈھائی صدیاں بعد یعنی آج سے لگ بھگ سو سال پہلے سویزرلینڈ کے شہر برن میں کام کرنے والا ایک معمولی سا کلرک بہت غیر معمولی کام کرنے والا تھا۔ اس کا ذیادہ تر وقت سوچ بچار اور ذہنی تجربات میں گزرتا۔ وہ ایک بہت بڑے سائنسی نظریے کی بنیاد رکھ رہا تھا جس سے کشش ثقل کے تصور کو ایک نئی وضاحت ملنے والی تھی۔ یہ معمولی کلرک اور غیر معمولی ذہانت کا مالک البرٹ آئین سٹائين تھا۔
آئین سٹائين روشنی پر کام کرتے ہوئے جب اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ کائنات میں کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کرسکتی تب اس نے ایک ذہنی تجربہ کیا۔ آئین سٹائین نے سوچا کہ اگر سورج ایک دم مکمل طور پر ختم ہو جائے تو کیا ہوگا؟ نیوٹن کے مطابق سورج کے ختم ہوتے ہی سورج کی کشش بھی ختم ہو جائے گی اور سورج کے گرد گردش کرنے والے تمام سیارے فورا اپنے مداروں سے نکل کر خط مستقیم پر سفر کرنے لگیں گے۔ اب یہاں نیوٹن کی وضاحت کے ساتھ ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ روشنی کو سورج سے زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لگتے ہیں، اب اگر سورج ایک دم ختم ہو جاتا ہے تو زمین اپنا مدار چھوڑنے کے بعد بھی آٹھ منٹ تک روشن ہی رہے گی۔ آئین سٹائين نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیوں کہ کوئی بھی چیز حتی کہ کشش ثقل بھی روشنی سے تیز نہیں ہو سکتی لہذا سورج کے ختم ہو جانے کے بعد بھی آٹھ منٹ تک زمین اپنے مدار میں قائم ہی رہے گی۔ اب سوال یہ تھا کہ سورج کی کشش تو سورج کی وجہ سے ہے جب سورج ہی ختم ہو گیا تو ایسا کیا ہے جو زمین کو آٹھ منٹ تک مدار میں قائم رکھے گا؟ تب آئین سٹائین اس نتیجے پر پہنچا کہ کشش ثقل یا ثقلی کھچاؤ نامی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے اصل میں ہو گا یہ کہ جب سورج غائب ہو گا تو سپیس ٹائم(Space time)میں ایک ثقلی لہر پیدا ہو گی جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی زمین کے مدار تک پہنچے گی جس کے ساتھ ہی زمین اپنے مدار سے نکل جائے گی۔ آئین سٹائین کے مطابق نیوٹن کی یہ وضاحت غلط تھی کہ کشش ثقل ایک نہ نظر آنے والی رسی کی طرح چیزوں کو زمین کے مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔
آئین سٹائین کے مطابق کشش ثقل مادی چیزوں کے اندر سے نکلنے والی کھچاؤ کی کوئی پراسرار قوت نہیں بلکہ چیزوں کے گرد موجود سپیس ٹائم کی خمیدگی ہے۔ دوسرے لفظوں میں زمین چیزوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتی بلکہ زمین کے گرد سپیس ٹائم میں پڑنے والا خم چیزوں کو زمین کی طرف دھکیلتا ہے۔ نیوٹن کے مقابلے آئین سٹائین کی یہ وضاحت تھوڑی پیچ دار اور مبہم سی ہے، چلیں! آئین سٹائین کے اس تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ سپیس ٹائم(Space time) یا زمان و مکاں کیا ہے؟فرض کریں ہمارے اردگرد موجود تمام چیزیں غائب ہو جاتی ہیں، تمام چیزیں یعنی عمارتیں، لوگ، درخت، پہاڑ، ہوا، پانی، پوری کی پوری زمین، پھر ستارے سیارے کہکشائیں حتی کہ انتہائی چھوٹے ذرات، سب کچھ غائب ہو جاتا ہے تو پیچھے کیا بچے گا؟ ہم کہیں گے کچھ بھی نہیں! اصل میں یہ ہی “کچھ نہیں” سپیس ہے۔ سپیس وہ گنجائش ہے جس میں تمام مادی اجسام موجود ہیں اور آگے پیچھے، دائیں بائیں اور اوپر نیچے حرکت کر سکتے ہیں۔ نیوٹن کا ماننا تھا کہ سپیس ایک سٹیج کی طرح ہے اور اسی سٹیج پر کائنات کے تمام عوامل رونما ہوتے ہیں لیکن یہ غیر متغیر اور غیر عامل ہوتی ہے۔ نیوٹن کے برعکس آئین سٹائین نے بتایا کہ کہ سپیس غیرمتغیر نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی کائنات میں رونما ہونے والے عوامل میں حصہ لیتی ہے، یہ پھیلتی اور سکڑتی ہے، بل کھاتی اور لچک لیتی ہے۔ آئین سٹائین نے کہا کہ وقت بھی سپیس کی طرح مستقل اور غیر متغیر نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی پھیلتا اور سکڑتا ہے یعنی مختلف جگہوں پر وقت کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔ آئین سٹائین نے وقت اور سپیس کے لیے ایک مشترکہ اصطلاح “سپیس ٹائم” استعمال کی۔ آئین سٹائین کے مطابق تمام مادی اجسام سپیس ٹائم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس میں خم پیدا کر دیتے ہیں۔ مادی جسم جس قدر بڑا ہو گا اسی قدر ذیادہ خم ڈالے گا اور جتنا ہلکا ہو گا سپیس ٹائم کا خم بھی اسی حساب سے کم ہو گا۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ مادی اجسام اپنے مادے کی مقدار کے حساب سے سپیس ٹائم میں ایک گڑھا بنا دیتے ہیں اور اردگر کے دوسرے چھوٹے مادی اجسام سپیس ٹائم کے اس گڑھے میں گرنے لگتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ بڑا جسم چھوٹے اجسام کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے حالانکہ بڑے جسم کے اردگرد سپیس ٹائم میں پڑنے والا خم انہیں بڑے جسم کی طرف دھکیل رہا ہوتا ہے۔ یعنی سیب درخت سے ٹوٹ کر اس لیے نہیں گرتا کہ زمین اسے اپنی طرف کھینچتی ہے بلکہ زمین کے گرد موجود سپیس ٹائم اسے زمین کی طرف دھکیلتا ہے۔ آئین سٹائین نے ایسی مساواتیں دیں جن سے ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ کتنا بڑا جسم سپیس ٹائم میں کتنا بڑا اور کیسا گڑھا ڈالے گا۔
کشش ثقل بارے آئین سٹائین کی اس وضاحت کی جانچ کے لیے 1976 میں گریوٹی پروب اے اور پھر 2004 میں گریوٹی پروب بی کا تجربہ کیا گیا اور پایا گیا کہ کشش ثقل بارے آئین سٹائین کے فارمولے اور وضاحت بالکل درست ہے۔ گریوٹی پروب اے میں دو آئٹمی گھڑیوں میں سے ایک کو زمین پر رکھا گیا اور ایک کو زمین سے دور خلا میں بھیج دیا گیا پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد جب زمین والی گھڑی اور خلا میں موجود گھڑی کے وقت کا موازنہ کیا گیا تو پتہ چلا زمین کے نذدیک موجود گھڑی کا وقت خلا میں بھیجی گئی گھڑی کی نسبت سست تھا۔ گریوٹی پروب بی میں ایک مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا گیا اور اس میں موجود آلات کے ذریعے کچھ پیمائشیں کی گئیں جن سے ثابت ہو گیا کہ زمین اپنے گرد موجود سپیس ٹائم میں خم ڈال رہی تھی۔ ان دونوں مذکورہ تجربات سے حاصل شدہ اعداد و شمار آئین سٹائین کی مساواتوں سے حاصل شدہ نتائج سے سو فیصد ہم آہنگ تھے۔ بہرحال آئین سٹائين نہیں جانتا تھا کہ مادی چیزوں کے اندر ایسا کیا ہے جو سپیس ٹائم کو موڑ دیتا ہے۔
کشش ثقل دیگر قوتوں(جیسے برقی مقناطیسی قوت) کی نسبت ایک کمزور قوت ہے مثلا” ایک چھوٹے سے مقناطیس کی کشش عام مشاہدے میں آ جاتی ہے مگر دو چھوٹے مادی اجسام کے درمیان پائی جانے والی کشش ثقل اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ عام مشاہدے میں نہیں آتی۔ یعنی ایک بہت بڑا پتھر یا پورے کا پورا پہاڑ بھی اتنی کشش ثقل نہیں رکھتا کہ ہتھیلی میں سما جانے والے ایک چھوٹے سے کنکر کو اپنی طرف کھینچ سکے۔ لیکن کائنات میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں مادہ اپنے انتہائی چھوٹے حجم اور کشش ثقل اپنے عروج پر ہوتی ہے، وہ جگہ ہے “بلیک ہول”۔ بلیک ہول یا سیاہ گڑھا ایک مردہ ستارا ہوتا ہے جو اپنی ہی کشش کی وجہ سے ایک نقطہ پر سکڑ جاتا ہے، اس کی کشش اس قدر طاقت ور ہو جاتی ہے کہ یہ سپیس ٹائم اور روشنی کو بھی اپنے اندر گھسیٹ لیتا ہے۔ جو چیز بھی بلیک ہول کے نذدیک جاتی ہے وہ اسی میں دفن ہو جاتی ہے۔ بلیک ہول کی بے پناہ کشش اور انتہائی کم حجم کی وجہ سے اس کے اندر آئین سٹائین کا سارے کا سارا نظریہ اور تمام مساواتیں فیل ہو جاتی ہین۔
موجودہ دور کے سائنسدان اس کوشش میں ہیں کہ کشش ثقل کی کوئی ایسی وضاحت سامنے آ سکے جس کا اطلاق بلیک ہول کے اندر اور آئٹم سے چھوٹے ذروں پر بھی کامیابی سے کیا جا سکے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ائٹم سے بہت چھوٹا گریویٹان(Graviton) نامی کوئی ذرہ ہے جو کشش ثقل کا اصل ذمہ دار ہے لیکن ابھی تک وہ سائنس کی نظروں سے اوجھل ہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں گریویٹان کا سراغ مل جاتا ہے تو شاید ہم کشش ثقل کے بارے اس بات کو انجام تک پہنچا سکیں جو نیوٹن نے شروع کی اور آئین سٹائین نے اسے آگے بڑھایا۔ بہرحال یوں لگتا ہے جسے گریویٹان کے مل جانے پر بھی کشش ثقل کی “اصل” تک پہنچنے کا سفر ختم نہیں ہو گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 16 تبصرے برائے تحریر ”کشش ثقل

  1. سادہ سے انداز میں خوب بیان ہے ، اور یہ جان کر بھی حیرت ہوئی کہ کشش ثقل ابھی تک حل طلب مسئلہ ہے۔

  2. خوب تحریر ہے۔ نیوٹن کی بات سمجھ میں‌آتی تھی مگر آئنسٹائن پلے نہیں پڑتا تھا، آج اسکی بات بھی کچھ سمجھ آگئی۔
    کیا آپ نے نکولا ٹیسلا پر کوئی تحریر لکھی؟
    سنا ہے وہ کہتا تھا کہ زمین ایک دیو ہیکل مقناطیس ہے اور ہم اسکی مدد سے لا متناہی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ہو سکے تو روشنی ڈالئے گا۔ مہربانی؛

  3. بھائی بہت عمدہ تحریر، بھائی مہربانی کرکے ایسی تحاریر لکھتے رہا کریں۔

  4. آپ کی ایک دوسری تحریر ”وقت“ کے مطابق کشش ثقل سے دوری پر وقت میں بھی فرق آتا ہے یعنی کشش ثقل سے دوری پر وقت سست ہو جاتا ہے۔ اس سے میرے ذہن میں یہ بات آ رہی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں مادی اجسام صرف سپیس میں خم ڈالتے ہیں، جس کی وجہ سے وقت اور کشش ثقل پیدا ہوتی ہے۔
    کہیں ایسا تو نہیں سپیس میں مادی اجسام جھول رہے ہیں۔ ان کی ایک طرف وقت ہے اور دوسری طرف کشش ثقل ہے۔ اگر ہم ایک کا فاصلہ کم کریں تو دوسرے پر اس کا اثر ہو گا۔ بالفرض اگر مادی جسم کو وقت کے قریب لے جائیں تو کشش ثقل کم ہو جائے گی اور ایسے ہی اگر کشش ثقل کے قریب لے جائیں تو وقت کم ہو جائے گا۔
    وقت۔۔۔۔۔۔مادی جسم۔۔۔۔۔۔کشش ثقل
    دوسرے الفاظ میں یہ کہ اگر سپیس میں پڑنے والے خم کو کم کیا جائے تو کیا کشش ثقل اور وقت بھی کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں؟

  5. اگر ہو سکے توچاند کی کشش ثقل پر بھی روشنی ڈالئے کیونکہ اگر انسان کو چاند پر چہل کرتے دکھایا گیا ہے اس مطلب ہے کہ چاند پر کشش ثقل موجود ہے پر کشش ثقل موجود ہے تو انسان وہاں سے واپس کیسے آیا کیونکہ زمین سے چاند پر جانے کے لئیے بہت طاقتور راکٹس استعمال کیۓ گۓ ہوں گے ان راکٹس کو زمین کی کشش ثقل سے باہر نکالنے کے ہزاروں انسانوں نے دن رات کام کیا لیکن چاند پر یہ کام کس نے سرانجام دیا؟

    1. جی! اصل میں کشش ثقل کو ہم وزن کی صورت میں محسوس کرتے ہیں چاند کی کمیت کیونکہ زمین کے مقابلے کافی کم ہے لہٰذا چاند کی سطح پر ہمارا وزن تقریباً چھ گنا کم ہو جاتا ہے لیکن وزن وہاں بھی بہرحال محسوس ہو گا۔ چاند پر اترنے والی چاند گاڑی میں بھی راکٹ کا انجن موجود تھا جو خلابازوں کو چاند کی سطح سے چاند کے گرد گردش کرتے راکٹ تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ چاند گاڑی صرف چاند کے گرد گردش کرتے راکٹ سے چاند پر اترنے اور پھر وہاں سے واپس راکٹ تک پہنچنے کے لیے استعمال ہوئی۔دوسری بات چاند کے گرد زمین کی طرح ہوا نہیں ہے۔

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *