August 7, 2017 - غلام عباس مرزا
2 تبصر ے

کامیابی

میں ایک کامیاب شحص ہوں۔ معاشی استحکام کے “سرٹیفیکیٹ” کے ساتھ حقیقی معنوں میں کامیاب۔ میرے پاس پیسہ ہے اور پیسہ کمانے کے کئی کارگر ذرائع ہیں۔ میں ایک کامیاب انسان ہوں یہ فقط میرے منہ کی بات نہیں ہے۔ میرے دوست، رشتہ دار، میرے جاننے والے سب میرے بارے میں یہ ہی رائے رکھتے ہیں۔ سب میرے مقام کو رشک سے دیکھتے ہیں اور سرد آہیں بھرتے ہیں۔ نوجوانوں کو میری مثالیں دی جاتی ہیں۔ باپ بیٹوں کو میری ترقی کی کہانیاں سنا کر ڈانٹتے ہیں۔ استاد میرے قصے سنا کر شاگردوں میں جذبہ کوشش پیدا کرتے ہیں اور خود حسد سے جلتے ہیں۔ رشتے دار میرے ساتھ مراسم بڑھانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ وہ میرے مقام سے کچھ ایسے مرعوب ہیں کہ میری تھوڑی سی توجہ انہیں بہت اہم محسوس ہوتی ہے، جبکہ میں، میں اپنے ارد گرد رہنے والے لوگوں سے بے نیاز آگے بڑھنے اور مزید آگے بڑھنے کے لیے کوشش کرتا رہتا ہوں۔ اصل میں میری یہ برتری اور میرا احساس برتری ہی میری زندگی کی آکسیجن ہے، یہ احساس ہی مجھے زندہ اور جوان رکھتا ہے۔ لیکن مجھے یہ کامیابی یوں ہی نہیں مل گئی، میرا یہ مقام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے۔ بعض کاہل اور بے وقوف لوگ مجھے قسمت کا دھنی سمجھتے ہیں اور میری کامیابی کو مقدر کی دین جانتے ہیں۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام حاصل کرنے کے لیے میں نے بہت محنت کی ہے۔ بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اس کے لیے میں نے اپنے اندر کئی تبدیلیاں پیدا کیں ہیں، اپنے آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کیا ہے۔ میں نے سیکھ لیا ہے اور طے کر لیا ہے کہ میں سب سے پہلے اپنی کامیابی دیکھوں گا۔ میں سب سے ذیادہ اپنا کام اہم جانوں گا۔ میری کامیابی کی راہ میں کچھ بھی آئے مجھے اسے ہٹانا ہی ہو گا۔ یاری دوستی، رشتے ناطے ، تعلق واسطہ جو بھی میرے کام میں رکاوٹ بننیں لگیں تو میری کامیابی ہی میری واحد ترجیح ہو گی۔ محجھے دیکھیں، میرا مقام دیکھیں، میری کامیابی ۔دیکھیں، کیا ہے آپ کے پاس ایسا قابل رشک مقام؟
بہت خوب جناب! ہم آپ کی کامیابی کی قدر کرتے ہیں، ہم آپ کی محنت کی قدر کرتے ہیں، ہم آپ کی “ڈیٹرمینیشن” اور “ڈیووشن” کی قدر کرتے ہیں، لیکن وی آر سوری ! ہمیں افسوس ہے ، آپ کا یہ مقام کچھ خاص قابل رشک نہیں ہے۔ آپ نے زندگی کے صرف ایک پہلو کو ہی ساری زندگی سمجھ لیا ہے ۔ پودوں کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر اسی پانی کی بہتات ہو جائے تو یہ جڑیں گلا دیتا ہے۔”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کامیابی

  1. سر اس لئے اونچا ہے کہ قد اسکا بڑا ہے
    قد اس لئے اونچا ہے کہ لاشوں پے کھڑا ہے
    اترائیں نہ کسی آگ پے نمرود کے بیٹے
    انسان بڑا ہے تو خدا اس سے بھی بڑا ہے.

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *