December 22, 2012 - غلام عباس مرزا
16 تبصر ے

وقت

“میرے پاس وقت نہیں ہے؟”، “مجھے افسوس ہے میں وقت پر نہ پہنچ سکا”، ” وقت کی قدر کرنی چاہیے”، گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا”، “وقت پیسہ ہے”۔ ہم ایسے کئی فقرے روز بولتے ہیں جن میں وقت کا ذکر ہوتا ہے۔ ہم اس لفظ سے بہت مانوس ہیں۔ہم جانتے ہیں لفظ” وقت” سے کیا مراد ہے ہم جاتنے ہیں ہماری زندگیوں میں اس کی اہمیت کیا ہے ، لیکن کیا ہم وقت کی حقیقت کو بھی سمجھتے ہیں ؟۔
وقت کے متعلق سوچتے ہی ہمیں گھڑی کا خیال آتا ہے۔ ٹک ٹک کرتی گھڑی کی سوئی، یا وال کلاک کا جھولتا ہوا پینڈولم، یا ہر سیکنڈ کے بعد جلتے بجھتے ڈیجیٹل کلاک کے نکتے۔لیکن گھڑیاں تو وقت ناپنے کے لیے ہوتی ہیں جیسے ہم فیتے سے فاصلے ناپتے ہیں ۔مگر فاصلہ تو ہمارے سامنے ہوتا ہے لیکن یہ وقت کہاں رہتا ہے؟۔ دنیا میں جتنی بھی گھڑیاں ہیں پرانی شمسی اور ریت والی گھڑی سے لے کر آج کی جدید مکینیکل ،ڈیجیٹل یا ایٹمی گھڑیوں سمیت، وہ سب ہمیں صرف وقت بتاتی ہیں مگر وقت کی حقیقت کے متعلق کچھ بھی نہیں بتا سکتیں۔
ہم سب جاتنے ہیں کہ وقت موجود ہے ۔ لیکن ہم اسے چھو نہیں سکتے، چکھ نہیں سکتے ، سن نہیں سکتے، دیکھ نہیں سکتے، ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے، ہم اسے روک نہیں سکتے،۔ہم اس کے پابند ہیں، ہم اس کے غلام ہیں، یہ ہمیں گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، ہمیں لگتا ہے جیسے یہ آگے کو جا رہا ہے۔ لیکن اصل میں یہ ہے کیا ؟
ارسطو نے کہا تھا وقت حرکت کی پیمائش کا نام ہے۔اس کے مطابق کائنات میں مٹی، ہوا،پانی اور آگ کے علاوہ ایک چیز ایتھر ہے جو کائنات میں یکساں رفتار سےگھومتی رہتی ہے اور اسی کی حرکت اصل میں وقت ہے۔ ارسطو کے اسی نظریے کو کوپر نیکس اور گلیلیو نے آگے بڑھایا ۔ ارسطو کے نظریے میں خاص بات یہ تھی کہ وقت پوری کائنات میں ایک ساتھ یکساں وقفوں میں آگے بڑھتا ہے۔
سترھویں صدی کے مشہور سائنسدان سر آئزک نیوٹن کے مطابق وقت پوری کائنات میں کسی دریا کی طرح مسلسل اور یکساں رفتار کے ساتھ آگے کو بہتا رہتا ہے۔یہ تمام بیرونی قوتوں اور اثرات سے بے نیاز ہوتا ہے۔اورہم اس حقیقی وقت کے حوالے سے اپنا روزمرہ کا وقت ناپتے ہیں۔وقت سے متعلق نیوٹن کا یہ تصور تقریبا” عام آدمی جیسا ہی تھا۔
لیکن بیسویں صدی میں آئین سٹائین نے وقت کی ایک نئی تشریح پیش کی۔ آئین سٹائین کے مطابق وقت کا تجربہ انفرادی ہوتا ہے ، یہ اضافی ہوتا ہے۔یعنی دنیا میں ہر چیز اپنا ذاتی وقت رکھتی ہے ۔مثلا” ایک تیز رفتار جہاز میں بیٹھے آدمی کا وقت زمین پر کھڑے آدمی کے وقت کی نسبت سست ہوگا یعنی ہو سکتا ہے جہاز میں بیٹھے آدمی کا ایک سیکنڈ زمین پر کھڑے آدمی کے ایک دن کے برابر ہو اور یہ فرق جہاز کی رفتار پر منحصر ہے، رفتار جتنی ذیادہ ہو گی، فرق بھی اتنا ہی ذیادہ ہو گا۔ اسی طرح کشش ثقل بھی وقت پر اثر انداز ہوتی ہے مثلا” کسی بڑی عمارت کی پہلی منزل پر رہنے والوں کا وقت عمارت کی پچاسویں منزل پر رہنے والوں کی نسبت سست ہو گا، اس لیے کہ پہلی منزل والوں پر کشش کا اثر پچاسویں منزل والوں کی نسبت ذیادہ ہوتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے آئین سٹائین کا یہ نظریہ تجربات پر پورا اترتا ہے اور آج بھی درست مانا جاتا ہے۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپنی روز مرہ زندگی میں ہمیں وقت کے اس عجیب و غریب برتاؤ کا عملی تجربہ کیوں نہیں ہوتا؟۔اصل میں عام طور پر وقت میں آنے والا یہ فرق اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ ہم محسوس نہیں کر سکتے ۔ مثلا” ایک گھڑی زمین پر اور دوسری ایک ہزار فٹ بلند پہاڑی پر رکھی جائے تو زمین کی کشش کے فرق کی وجہ سے گھڑیوں کےوقت میں جو فرق آئے گا وہ اس قدر تھوڑا ہو گا کہ تیس لاکھ سال بعد پہاڑی پر رکھی گئی گھڑی صرف ایک سیکنڈ آگے چلی جائے گی۔لیکن اگر ایک گھڑی زمین پر ہو اور ایک سورج پر رکھ دی جائے۔ تو چونکہ زمین اور سورج کی کشش میں بہت بڑا فرق ہے اس لیے دونوں گھڑیوں کے وقت میں ایک سیکنڈ کا فرق آنے میں صرف ایک سو پندرہ دن لگیں گے۔لیکن اگر ہم بلیک ہول کے انتہائی قریب چلیں جایں تو بلیک ہول کی انتہائی طاقتور کشش کی وجہ سے زمین کی نسبت وقت کا فرق اسقدر ذیادہ ہو جائے گا وہاں گزرا ایک منٹ زمین کے لاکھوں سالوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ یہ ہی حال حرکت کرتے اجسام میں پیدا وقت کی سست روی کا ہے۔ یعنی عام طور پر ہم جن رفتاروں سے سفر کرتے ہیں ہمیں وقت کا فرق محسوس نہیں ہوتا لیکن اگر ہم روشنی کی رفتار(تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) سے آدھی رفتار کے ساتھ سفر کریں تو وقت کا فرق بہت ذیادہ اور واضع ہو جائے گا۔ آئین سٹائین کے مطابق وقت اور سپیس(فضا) دونوں ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
امریکن سائنسدان اور تھیوریٹیکل فیزسٹ “برائن گرین” (Brian Greene)جو کہ کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں وقت کو ایک دھوکے سے تعبیر کرتے ہیں ان کے مطابق حال ، ماضی اور مستقبل ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ ماضی گزر چکا ہے ، حال جاری ہے اورمستقبل آنے والا ہے۔ان کے مطابق فزکس کے قوانین میں اس بات کی کوئی پابندی موجود نہیں ہے کہ وقت صرف آگے کو ہی چلتا ہے۔
سٹی یونیورسٹی نیویارک کے پروفیسر اور تھیوریٹیکل فیزسٹ میچیو (Michio Kaku) کہتے ہیں کہ” میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقت کے مطالعہ میں گزارا ہے۔اور میں جانتا ہوں یہ فطرت کے بڑے رازوں میں سے ایک ہے”۔ ان کے مطابق وقت مکینیکل ہوتا ہے، یہ ذاتی نہیں بلکہ پوری کائنات میں چلتا ہے لیکن ہم اسے اپنے اپنے طریقہ سے محسوس کرتے اور ناپتے ہیں ، یہ ہمیں سست محسوس ہو سکتا ہے، یہ ہمیں تیز لگ سکتا ہے ۔ یہ ہمیں خبر دینے والا ہے، اور اصل میں یہ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمارے دماغ کے اندر عصبی خلیوں کا ایک ایسا سرکٹ موجود ہوتا ہے جو ہمیں وقت کا احساس دلاتا رہتا ہے یعنی وقت کا احساس ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ بہرحال شاید ہم مستقبل میں وقت سے متعلق مزید بہت کچھ جان لیں۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ یہ راز اتنی آسانی سے فاش نہیں ہونے والا۔ باقی اس امید کے ساتھ یہیں ختم کرتا ہوں کہ شاید یہ تحریر اس قابل ہو کہ آپ وقت کو نئے اور مختلف زاویے سے دیکھنے پر مائل ہو جایں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 16 تبصرے برائے تحریر ”وقت

  1. اتنی سائنسی تحریر، حد ہوگئی، میں تو پڑھتے پڑھتے ہی پھاوا ہوگیا، آپ کا جانے کیا بناہوگا لکھتے لکھتے، وقت کے بارے میں‌ابھی مذید کچھ کہنا اور سمجھنا باقی ہے، مختلف درجوں کےلئے وقت مختلف ہوتے ہیں، کل روم جانے کو ٹرین سے 8 گھنٹے لگتے تھے، تو روم جانے کا وقت آٹھ گھنٹے تھا، پھر پانچ گھنٹے ہوا، اب ساڑے تین گھنٹے میں یہ ساڑے پانسو کلو میٹر کا سفر طے ہوگیا، اس طرح اب صبح کا ناشتہ پاکستان میں کرکے رات کا کھانا اٹلی میں کھایا جاسکتا ہے۔ یہ وقت ویسے اب الٹا چل رہا اس دنیا کا،اور اسکی وجہ اسکے شاید میرے جیسے دانا ہیں۔ جو کرتے کراتے کچھ نہیں بس بھاشن دینے میں وقت برباد کرتے چلے جاتے ہیں

  2. بہت عمدہ عباس صاحب۔
    کبھی شاعری۔ کبھی موسیقی ۔کبھی فوٹو گرافی۔ کبھی سائنس۔ کبھی میتھ۔ کبھی اخلاقیات۔ اینڈ سو آن ۔
    میاں کوئی ایسا موضوع بھی ہے جس پر آپ نہ لکھتے ہوں؟

  3. اچھا موضوع و مضمون ہے، لیکن اگر مذہب کا تڑکہ بھی ہوتا تو مزہ دوبالا ہوجاتا۔
    اسلامی تعلیمات کے مطابق:
    انسان زمانے (یعنی وقت) کو برا کہتا ہے، جبکہ زمانہ تو اللہ رب العزت خود ہے۔
    کوئی دوست مزید تشریح کردیں۔

  4. وقت کے صا بن سے اپنے دل کو صا ف کر لو ، وقت کی قد ر اور اھمیت اور حقیقت کا پتا چل جا ے گا ،

  5. عباس بھائی السلام و علیکم! آپ کا یہ مضمون ماشا اللہ دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ بہت اچھا لگا۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں یہ مضمون اپنے یونیورسٹی میگزین میں چھپنے کےلئے مُنتخب کر لوں جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ اگر آپ اجازت دیں گے تو میں اسے مُنتخب تحریر والے حصے میں شائع کراؤں گا۔ جواب کا انتظار رہے گا۔ شکریہ!

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *