January 6, 2015 - غلام عباس مرزا
2 تبصر ے

وائلن

x15867660
یہ اندازاً کوئی دس بارہ سال پرانا قصہ ہو گا جب میرے ایک بھتیجے کو یکا یک موسیقی کا شوق لاحق ہو گیا۔ فنون لطیفہ کی راہ پکڑنے کا یہ الہامی جذبہ اسقدر شدید تھا کہ اس نے نِری خواہش سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ٹھانی اور موسیقی کے معاملے میں عملی منازل طے کرنے کا مصمم اردہ کر بیٹھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب(کسی دوست کی وساطت سے) ہم ایک عدد باجا خرید چکے تھے اور گھر والوں سے چوری شہر کے ایک انتہائی غیر معروف استاد کے زیر سايہ ہارمونیم کی بنیادی مشقیں باہم پہنچا رہے تھے۔ بھتیجا جو کہ موسیقی سے متعلق ہماری خفیہ پیش رفت سے باخوبی واقف تھا ایک دن بڑے رازدارانہ انداز میں ہم سے ملنے آیا۔ اپنی مخفی خواہش کے اظہار کے بعد اُس نے مذکورہ معاملے میں ہم سے مفید مشورے اور مدد کی اپیل کی۔ بھتیجے کا ہمارے علم و تجربے سے فیضیابی کا ارادہ دیکھ کر جہاں ہم اس کی مردم شناسی کے قائل ہوئے وہاں اپنے سینئر ہونے کا خوشگوار احساس بھی دل میں لہرانے گیا۔ بس اسی جذباتی کیفیت میں اسے دل کی گہرائی سے موسیقی پر لمبا چوڑا لیکچر سنایا اور فی الفور ایک عدد ہارمونیم خریدنے کو کہا، تاکہ نومولود ولولے کو شروع سے ہی کارگر راہ پر ڈالا جا سکے ۔ اب ظاہر ہے ہارمونیم خریدنے کی ذمہ داری ہمیں کو نبھانی تھی ،لیکن مشکل یہ تھی کہ اس بارے ہمارا علم شرمناک حد تک محدود تھا بلکہ ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ الاتِ موسیقی کی دکانیں کہاں پائی جاتی ہیں۔ خیر اس سلسلے میں اپنے ایک دوست سے بات ہوئی اور پھر ان کے ایک قریبی دوست شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی جو کلاسیکی موسیقی کے اچھے بھلے ماہر تھے۔ ملاقات بہت خوشگوار رہی، شاہ صاحب نے کشور کمار کے دو تین گانے سنائے اور پھر راگ مالکونس میں خیال سنایا، شاہ صاحب کے آکار اور تانوں پر ہم نے یوں پھڑک کر واہ واہ کی جیسے ہمیں سب سمجھ آئی ہو۔ اس ملاقات میں لاہور جانے کا دن طے ہو گیا اور شاہ صاحب نے ہارمونیم خریدنے میں ہمارے مدد کرنے کی حامی بھر لی۔
طے شدہ دن جب ہم لاہور جا رہے تھے تو دوران سفر ہونے والی گفتگو میں ہم پر انکشاف ہوا کہ الات موسیقی کی دکانیں بدنام بازار ہیرا منڈی میں ہوتی ہیں۔ خیر ہمیں اس سے کیا، ویسے دل میں ایک خفیف سی خوشی بھی پیدا ہوئی کہ چلو اسی بہانے یہ بازار اور شاید اس سے وابسطہ مخصوص “نظارے” بھی دیکھنے کو مل جایں، مگر افسوس ایسا کچھ نہ ہوا۔ پوچھتے پچھاتے جب ہم وہاں پہنچے تو دن کے بارہ بج رہے تھے۔ تقریباً سبھی دکانیں کھل چکی تھیں، ہم نے ایک ایک کر کے دکانوں کا دورہ کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلے ایک بڑی دکان پر گئے، ہارمونیم خریدنے، اس کی جانچ کرنے اور پسند کرنے کی ذمہ داری چونکہ شاہ صاحب نے اٹھا لی تھی لہٰذا ہم اس معاملے سے بے نیاز ادھر ادھرے رنگ برنگے ساز دیکھنے لگے۔ طبلے طنبورے، ڈھولک بانسری، ستار سرمنڈل اور سرنگی جیسے مشرقی سازوں سے لے کر گٹار، وائلن، سیلو، ڈرم، وائیولا، کلارنٹ، ہارن، ٹرمپیٹ الغرض ہر طرح کے ساز شوکیسوں میں دھرے ہوئے تھے۔ وائلن سیکھنے اور بجانے کی ہماری ازلی اور رومانوی خواہش کی وجہ سے شوکیس میں پڑا ایک اٹالین وائلن دیکھ ہم رہ نا سکے اور سیلز مین سے ساز دیکھانے کو کہا۔ سیلز مین نے وائلن شوکیس سے نکالا اور ہولے سے ہمارے آگے رکھ دیا، ساتھ ہی ساتھ اس نے رٹی رٹائی پیشہ ورانہ گفتگو بھی چالو کر دی، ” جناب یہ بہت عمدہ اٹالین وائلن ہے، بڑے بڑے ماہر اسی کمپنی کا ساز استعمال کرتے ہیں آپ آنکھیں بند کر کے لے جایں یہ اپنا میعار خود ثابت کرے گا قیمت بھی چائنا کے وائلن سے بہت ذیادہ نہیں” وغیرہ وغیرہ۔۔ ہمارے لیے سچ مچ کے وائلن کو ذاتی ہاتھوں میں پکڑ کر دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا لہذا سیلز مین کی باتیں ہمیں بالکل بھی سنائی نہیں دے رہی تھیں ، ہم تو شوق کے مارے کسی بچے کی طرح اسے یوں ہی الٹ پلٹ کر دیکھنے اور ٹٹولنے میں مصررف تھے۔ ہمیں اسقدرمحو دیکھ کر سیلز مین کسی دوسرے گاہک کی طرف متوجہ ہو گیا اور اسی دوران جب ہم نے وائلن کا تسلی بخش مشاہدہ کر لیا تو اسے کاندھے پر رکھ کر بجانے کی سوچی۔ بڑے انداز سے اس کی گردن پکڑی انگلیاں تاروں پر دھریں اور چِن “ریسٹ” پر تھوڑی جما کر کمان(بو) تاروں پر پھیرنی شروع کی( جیسا کہ فلموں میں دیکھ رکھا تھا)۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ کمان تاروں پر پھیرنے سے کوئی آواز برآمد نہ ہو سکی۔ تیزی سے، دبا کر، زور سے ، جھٹکے کے ساتھ حتٰی کہ ہر طرح سے کمان چلائی مگر آواز ندارد۔ اتنے میں سیلز مین ادھر آ گیا، ہم نے کسی قدر شرمندگی کے ساتھ پوچھا کہ بھائی یہ بجتا کیوں نہیں؟ سیلز مین جسے ہمارے اناڑی ہونے پر ذرہ برابر بھی شک نہیں رہا تھا مسکرایا اور بولا جناب کمان کو ابھی بروزہ ہی نہیں لگا تو آواز کہاں سے آئے۔ ہم نے کھسسیانی سی ہنسی کے ساتھ وائلن سیلز مین کے حوالے کر دیا، اسی دوران شاہ صاحب نے کئی ہارمونیم ٹرائی کر لیئے تھے اور ہمیں اگلی دکان پر جانے کے لیے بلا رہے تھے۔
اگلی دوکان پر پہنچ کر شاہ صاحب پھر ہارمونیم دیکھنے میں مشغول ہو گئے اور ہماری نظریں وائلن تلاش کرنے لگیں۔ ہم نے پچھلی دکان سے حاصل تجربے کو کام میں لاتے ہوئے ریک میں پڑے وائلن کی طرف اشارہ کیا اور بڑے اعتماد سے کہا ” وہ والا اٹالین وائلن دکھاؤ”۔ دکاندار ہماری وائلن شناسی سے تھوڑا متاثر ہوا اور جھٹ سے وائلن اور کمان ہمارے ہاتھ میں تھما دی۔ وائلن ہاتھ میں پکڑتے ہی ہم نے اسے بڑے ماہرانہ انداز میں تھوڑی کے نیچے رکھ لیا اور دکاندار کی طرف کمان سے اشارہ کرے کے بڑے سنجیدہ لہجے میں پوچھا کیا بروزہ لگا ہوا ہے ؟ دکاندار نے عاجزی سے کہا جی سر چیک کرنے کے لیے تھوڑا سا لگا رکھا ہے۔ ہم نے کندھے اچکا کر اور مسکرا کر اوکے کہا۔ ہماری ان باتوں سے دکاندار ہمیں وائلن کا ماہر سمجھ بیٹھا تھا اور بہت متوجہ ہو گیا تھا۔ ہم نے ہلکے سے کمان تاروں پر پھیری جس سے چی ی آں ں ں۔۔ کی آواز آئی۔ دوکاندار جو کہ دل چھو قسم کی موسیقی کی امید میں بڑے انہماک سے ہمیں گھور رہا تھا سمجھا کہ شاید ہم نے ساز کی سیٹنگ چیک کر نے کو یہ آواز نکالی ہے اور ابھی ہم آنکھیں بند کر کے من موہ لینے والے سر بکھیرنے والے ہیں ۔ ہم نے دوبارہ کمان چلائی، چاں ں ں چاں چاں ں چیں ں ں چاں چک۔ یہ سنتے ہی دکاندار نے ہمیں عجیب سی نظروں سے دیکھا اور شاہ صاحب کی طرف چلا گیا جو ہارمیونیم پر راگ بھیرویں کے پلٹے بجانے میں مصروف تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”وائلن

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *