June 11, 2012 - غلام عباس مرزا
26 تبصر ے

لامحدود (Infinite)

ایک مشکل، پراسرار، گنجلک، عجیب، فریب انگیز، دلچسپ اور ڈراونا تصوربچپن میں اس تصور سے ہمارا سامنا اکثر اس وقت ہوتا ہےجب ہم گنتی سیکھتے ہیں، ایک، دو، تین، چار، پانچ ۔۔۔۔۔ اور ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم اسی طرح گنتے جایں تو کوئی ایسا عدد آئے گا جس سے آگے ہم نہ گن سکیں؟ کیا کوئی بڑے سے بڑا ایسا عدد ہوتا ہے جہاں گنتی ختم ہو جاتی ہے؟ پھر ہمارا دماغ کہتا ہے نہیں! پھر جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ اگر آسمان بہت دور کسی چادر کی طرح تنا ہے تو خیال آتا ہے کہ اس چادر کے اوپر کیا ہے؟ پھر اس سے آگے کیا ہو گا؟ اور اس طرح ہمارے ذہن میں لامحدود کا ایک خاکہ سا قائم ہونے لگتا ہے۔ ہم بہت آسانی کے ساتھ لامحدود کے وجود کو تو تسلیم کر لیتے ہیں لیکن ہمیں لامحدود کے تصور سے جڑی پراسرار، عجیب اورڈروانی باتوں کا اکثر اندازہ نہیں ہوتا۔ ابھی یہاں ہم لامحدود کے کچھ ایسے ہی پہلووں پر بات کریں گے۔

کیا آپ کائنات کو لامحدود مانتے ہیں؟

فرض کریں آپ اپنے اے ٹی ایم کارڈ کا پن نمبر بھول گئے ہیں اور آپ کا پن نمبر چار ہندسوں پر مشتمل ہے اب آپ کو تین مواقع دیئے جاتے ہیں کہ آپ کوئی سے بھی تین پن نمبر ٹرائی کر لیں اب ایسی صورت میں آپ کا کارڈ چل جانے کے امکانات انتہائی محدود ہوں گے اور ذیادہ امکان اسی بات کا ہو گا کہ آپ تینوں دفعہ درست پن نہیں لگا پائیں گے۔ لیکن اگر آپ کو دس ہزار مواقع دیئے جایں تو آپ کا کارڈ یقینا” چل جائے گا۔ وہ اس طرح کہ آپ 0 سے لے کر 9999 تک تمام نمبر ایک ترتیب کے ساتھ ٹرائی کریں گے اور ان میں سے ایک نمبر لازمی مل ہی جائے گا۔ لیکن اگر آپ کو درست پن لگانے کے لیے لامحدود مواقع دیئے جایں تو؟؟ تو پھر آپ کو 0 سے لے کر 9999 تک ترتیب کے ساتھ چلنے کی بھی ضرورت نہیں، آپ آنکھیں بند کر کے یونہی بٹن دباتے رہیں تو بھی ایک نا ایک دفعہ آپ درست پن لگا ہی لیں گے چاہے ایسا کئی ارب کوششوں کے بعد ہو لیکن یقینا” ہو گا ضرور۔

ہمارے اجسام مختلف عناصر کے آیٹموں کی مخصوص ترتیب پر مشتمل ہوتے ہیں جس طرح ایک ہی قسم کی اینٹوں کو مختلف ترتیبوں میں جوڑ کر مختلف شکلوں کے مکان بنائے جا سکتے ہیں اسی طرح کائنات کے تمام مادی اجسام ایٹموں کی مخصوص ترتیبوں سے بنتے ہیں۔ اب اگر ہماری کائنات لامحدود ہے تو ظاہر ہے اس میں موجود ایٹم بھی لامحدود ہیں تو لازمی طور پر ایٹموں کے مختلف ترتیبوں میں موجود ہونے کے امکانات بھی لامحدود ہیں اس لیے کائنات میں آپ اور میرے سمیت ہر چیز کی لامحدود کاپیاں بھی لازمی طور پر موجود ہوں گی۔ یعنی اگر آپ کائنات کو لامحدود مانتے ہیں تو آپ کو یہ بھی مانا پڑے گا کہ ہو بہو آپ جیسے لاتعدار لوگ بھی کائنات میں مختلف جگہوں پر موجود ہیں اور ہو بہو وہی کچھ کر رہے ہیں جو کچھ آپ کر رہے ہیں۔

کیا کچھ لامحدود بڑے اور کچھ چھوٹے ہوتے ہیں؟
فرض کریں آپ کے پاس لامحدود تعداد میں ماچسیں موجود ہیں اور ہر ماچس میں پچاس تیلیاں ہیں تو ایسی صورت میں ماچسوں کی تعداد چاہے جتنی بھی ہو جائے وہ ان میں موجود تیلیوں کی تعداد سے ہمیشہ کم ہی رہے گی تو کیا ماچسوں کی تعداد کا “لامحدود” انہی میں موجود تیلیوں کی   تعداد کے “لامحدود” سے چھوٹا ہو گا؟

سائنس اور لامحدود۔
سائنس میں لامحدود کو لاشمار چیزوں کے ایک سیٹ کے طور پر لیا جاتا ہے جیسے تھیلے میں کئی چیزیں ڈال کر اسے ایک یونٹ بنا لیا جائے اور اس سیٹ کے لیے ایک علامت مخصوص کر دی گئی ہے جو مختلف مساواتوں اور حساب کتاب میں استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ سائنس کو ابھی تک ٹھیک سے یہ بھی نہیں پتہ کہ لامحدود موجود بھی ہے کہ نہیں۔ اور کئی ماہرین کا کہنا ہے لامحدود موجود نہیں ہے اور گنتی بھی ایک بہت بڑی اور بہت ہی بڑی رقم پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے اور پھر اس سے آگے دوبارہ صفر آ جاتا ہے لیکن ابھی تک ہم اس آخری رقم تک نہیں پہنچ سکے۔ اسی طرح “بگ بینگ تھیوری” کے خالق “جارج گیمو” کے مطابق اگر ہم کائنات میں ایک ہی سمت میں سفر کرتے رہیں تو آخر اسی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے ہم نے سفر کا آغاز کیا ہوتا ہے اور کائنات کا حجم بہت بڑا ضرور ہے لیکن لامحدود نہیں۔ اب آپ کا کیا خیال ہے کہ کائنات لامحدود ہے اور میری اور آپ کی لاتعداد کاپیاں کائنات میں کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہیں یا پھر infinity محض ہمارے دماغ کا مغالطہ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 26 تبصرے برائے تحریر ”لامحدود (Infinite)

  1. اردو بلاگستان ایسی منفرد اور لطیف موضوعات کا عادی نہیں ، آپ کہاں راستہ بھٹک گئے۔ 🙂
    خوب تحریر ہے!
    تاہم آخری اقتباس میں‌ یہ جملے :
    “لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ سائنس کو ابھی تک ٹھیک سے یہ بھی نہیں پتہ کہ لامحدود موجود بھی ہے کہ نہیں۔ اور کئی ماہرین کا کہنا ہے لامحدود موجود نہیں ہے اور گنتی بھی ایک بہت بڑی اور بہت ہی بڑی رقم پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے اور پھر اس سے آگے دوبارہ صفر آ جاتا ہے لیکن ابھی تک ہم اس آخری رقم تک نہیں پہنچ سکے۔”

    لامحدود کی ریاضیاتی اور منطقی حثیت مسلم ہے۔ کیا اس کا اطلاق ہماری عملی دنیا میں ہوتا ہے ، اس پر مختلف آراء ہیں۔
    گنتی کو صفر پر لانے کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ (2 ، 1) پر مشتمل اوپن سیٹ ملاحضہ کیجیے۔ اس میں لامحدود حقیقی اعداد ہیں۔ آخر کونسا ہے اور پہلا کونسا ؟ اس کا تعین آپ کر ہی نہیں‌سکتے۔ تاہم تمام اعداد 1 سے بڑے اور 2 سے چھوٹے ہونگے۔

    ایسی خوبصورت تحاریر کا سلسلہ جاری رکھیے۔ 🙂

    1. جی تعریف کے لیے بہت شکریہ! شاید میری اس کوشش سے اصل ماہرین کو بھی تحریک ملے۔
      لامحدود کی ریاضیاتی اہمیت اور اطلاق تو اپنی جگہ پر لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لامحدود کے بارے میں ابھی ہم کچھ ذیادہ نہیں جانتے! یہ راز اب بھی اس پر تحقیق کرنے والوں کو پریشان کر دیتا ہے بلکہ خبطی بنا سکتا۔ مثلا” اگر ایک لامحدود تالاب ہو اور وہ مکمل طور پر بھرا ہوا ہو تو تب بھی اس میں مزید لامحدود پانی سمانے کی گنجائش باقی رہتی ہے تو پھر وہ بھرا ہوا کیسے تھا؟

      1. “بھرا ” ہونے کا مفروضہ غلط ہے۔
        درست یہ ہے کہ لامحدود تالاب میں لامحدود پانی ہے۔ اور مزید لامحدود پانی سما سکتا ہے۔
        سمجھنے کے لئے حقیقی اعداد کا سیٹ اور اس کے لامحدود سب سیٹ تصور کیجیے۔ 🙂

        1. آپ شاید لامحدود کو افقی طور پر لکھے گئے آٹھ کی شکل کی علامت سمجھ رہے ہیں جسے آسانی کے ساتھ کاغذ پر لکھا جا سکتا ہے اور سمجھا جا سکتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے روائتی میتھیمیٹکس کو بھول جایں اور لامحدود کا حقیقی تصور کر نے کی کوشش کریں۔ مثلا” لامحدود سب سیٹ مل کر ایک بڑا مدر سیٹ نہیں بناتے بلکہ تمام لامحدود ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ تالاب کی گنجائش کے لامحدود کو پانی کی مقدار کا لامحدود کبھی نہیں پکڑ سکے گا تو گویا تالاب کی گنجائش کا لامحدود پانی کی مقدار کے لامحدود سے بڑا ہوا؟ حالانکہ کے لامحدود بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا! اور اگر تمام لامحدود برابر ہوتے ہیں تو پھر لامحدود سے لامحدود کو منہا کرنے سے جواب صفر کیوں نہیں آتا؟ کچھ ایسی ہی مبہم قسم کی صورت حال سے ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے جب بھی ہم لامحدود پر تحقیق کرنے نکلتے ہیں۔ میری اس پوسٹ کا مقصد ایسی ہی صورت حال کی طرف توجہ مبذول کروانا تھا۔:)

          1. پانی کی گنجائش ، تالاب کی گنجائش کا سب سیٹ ہے۔ یہ آپ کی دی گئی مثال سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔
            لامحدود کا تعین سیٹ کی کارڈینلٹی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ایک لامحدود سیٹ کا سب سیٹ لامحدود ہوسکتا ہے۔ اس بات سے تو آپ واقف ہی ہونگے۔
            ایک اور بات ، لامحدود پر غور کرتے وقت ریاضی کو کبھی پس پشت نہ ڈالیے۔ اس کی حقیقت پر روشنی ریاضی ہی ڈالتا ہے۔ دی گئی مثالیں اس کی اطلاق ہیں۔

        2. آپ ماچسوں کی لامحدود تعداد کا تصور کیجیے! اب اگر ہر ماچس میں پچاس سے ذیادہ ایک تیلی بھی نہیں آ سکتی تو کیا آپ لامحدود بھری ہوئی ماچسوں میں مزید تیلیوں کی گنجائش بنا سکتے ہیں؟؟ اگر ہاں تو کیسے اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ یا کیا آپ اسے بھی غلط مفروضہ قرار دیں گے؟؟

          1. آپ کی دی گئی مثال میں‌ ماچسوں کی تعداد لامحدود ہے۔ ماچس کی ڈبیہ کا حجم لامحدود نہیں !

          2. انفرادی طور پر ڈبیہ کا سائز محدود ضرور ہے لیکن کلی طور پر تمام ماچسوں میں موجود گنجائش کا حاصل جمع تالاب کی گنجائش کی طرح لامحدود ہی ہے تبھی تو اس میں لامحدود تیلیاں ہیں۔ اب اگر تالاب کی لامحدود گنجائش میں لامحدود پانی ہونے کے باوجود مزید لامحدود پانی آ سکتا ہے تو ماچسوں کی لامحدود گنجائش میں مزید تیلیاں کیوں نہیں آ سکتی؟
            تو جواب ہے آ سکتی ہیں۔ اب کیسے یہ بات ابھی نہیں بتاؤں گا 😉

  2. حضرت آپ نے اپنے نظریات کے بارے میں کچھ بھی کھل کر نہیں بتایا کہ آخر آپ ”جارج گیمو“ کی طرح کائنات کو محدود مانتے ہیں یا کچھ اور؟؟؟
    خیر فی الحال آج کے دن تک میں تو کائنات کو لامحدود ہی مانتا ہوں۔ باقی ایٹم کی خاص ترتیب اور ایک جیسی شکل اور دیگر خصوصیات والے شخص ہونے والی بات کافی وزن رکھتی ہے۔ لیکن یہ لازمی تو نہیں موجودہ وقت میں ہی سب کچھ ہو بلکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے گزرے ہوئے وقت میں آپ کی ایک یا زیادہ کاپیاں گزر چکی ہوں۔
    بہرحال یہ موضوع خوشگوار موڈ میں سوچنے اور زیر بحث لانے والا ہے فی الحال تو بجلی کی وجہ سے گرمی پاگل کیے ہوئے ہے، پہلے اس کا کوئی بندوبست کریں تو پھر ہی کچھ اور سوچیں گے 🙂

  3. شاید “جارج گیمو” کی بات سچ نہ ہو! لیکن کائنات کو محدود سمجھنے سے ہم بہت سی باتوں کی جانچ کر سکتے ہیں۔ جو لامحدود ہونے کی صورت میں ہماری پہنچ سے باہر ہو جایں۔

  4. ” انفرادی طور پر ڈبیہ کا سائز محدود ضرور ہے لیکن کلی طور پر تمام ماچسوں میں موجود گنجائش کا حاصل جمع تالاب کی گنجائش کی طرح لامحدود ہی ہے تبھی تو اس میں لامحدود تیلیاں ہیں۔ اب اگر تالاب کی لامحدود گنجائش میں لامحدود پانی ہونے کے باوجود مزید لامحدود پانی آ سکتا ہے تو ماچسوں کی لامحدود گنجائش میں مزید تیلیاں کیوں نہیں آ سکتی؟ ” از غلام عباس
    متفق علیہ ! میں نے انکار کہاں کیا؟ 🙂

      1. کئی طریقے ہیں۔ ایک سادہ طریقہ حاضر ہے:
        پہلی ماچس میں سے ایک تیلی نکال کر دوسری میں ، دوسری میں سے ایک تیلی نکال کر تیسری میں ۔۔۔۔ یہ عمل لامحدود تک جاری رکھیے۔
        اس عمل کے نتیجے میں پہلی ماچس میں‌ صرف انچاس تیلیاں رہ گئی ہیں۔ گویا پچاسویں کے اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔ 🙂

  5. میرا اصرار یہ ہے کہ انفرادی ماچس کی ڈبی کو “بھر” سکتے ہیں کہ ڈبی کا حجم آپ کی مثال میں‌ محدود ہے۔
    تالاب کا حجم لامحدود ہے۔ یہاں “بھرا” ہونے کا تصور غلط ہے۔

  6. اچھا آپ ایک غبارے کا تصور کریں جس میں ہوا بھری ہوئی ہے اب ہم غبارے کا سائز(ہوا سمیت) بڑھاتے بڑھاتے لامحدود کر دیتے ہیں تو کیا تب ہم اسے ہوا سے بھرا ہوا نہیں کہہ سکتے؟

    1. کیا آپ کے خیال میں خلاء Discrete ہے یا Continuous ؟
      اگر سیٹ اے ڈسکریٹ ہے لیکن سیٹ بی کانٹینوئس تو تب اے سے بی پر onto فنکشن قائم نہیں ہوسکتا۔ یعنی سیٹ اے کے لامحدود اراکین اپنا منفرد جوڑا سیٹ بی میں پا سکتے ہیں۔ لیکن سیٹ بی میں‌ لامحدود اراکین ایسے ہونگے جن کا کوئی ساتھی سیٹ اے میں‌ موجود نہ ہوگا۔ نوٹ کیجیے کہ دنوں سیٹ میں لامحدود اراکین ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سیٹ اے ، سیٹ بی کو بھر نہیں سکتا۔ یعنی سیٹ اے ، سیٹ بی کے تمام اراکین کو جوڑی مہیا نہیں کر سکتا۔ نمونے کے لئے غور کیجیے قدرتی اعداد سے حقیقی اعداد پر ون ٹو ون فنکشن ، جو آن ٹو نہیں ہے۔

      اب آئیے آپ کی غبارے والی مثال کی طرف۔ اس میں غبارے کو لامحدود کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ محدود سائز کے غبارے میں بھی لامحدود خلاء سما سکتا ہے۔ اگر خلاء کو کونٹینوئس تسلیم کیا جائے۔ (میرے خیال سے اب تک جدید سائنس کا رحجان یہی ہے)۔ پس غبارے میں خلاء کے لامحدود اکائی نقاط ہیں۔ جبکہ ہوا ڈسکریٹ مالیکولز پر قائم ہے۔ یعنی اس مثال میں آپ کو نہ تو لامحدود ہوا کی ضرورت ہے۔ اور نہ ہی لامحدود سائز کے غبارے کی۔ 🙂
      اب سوال ہے کہ آیا غبارہ ہوا سے “بھرا” ہوا ہے ؟
      اگر تو “بھرا” ہونے سے آپ کی مراد یہ ہے کہ خلاء کی ہر اک اکائی کے مقابل ہوا کا ایک مالیکول ہے ؟ تو میرا جواب ہے کہ نہیں ! بھرا ہوا نہیں۔
      اگر بھرا ہوا ہونے سے مراد محض غبارے کی سطح کی ہیت اور تناؤ وغیرہ ہیں۔ تو غبارہ “بھرا” ہوا ہے۔
      یعنی غبارہ اس لحاظ سے بھرا ہوا ہے کہ اس کی مادی سطح‌ کے خواص اپنی انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔ غبارہ اس لئے نہیں بھرا کہ اس کے اندر مقید خلاء “بھر” گیا ہے۔ 🙂

      جیسا کہ اب تک کی تفصیل سے واضح ہے کہ آپ کی یہ نئی مثال پانی/تالاب کی مثال کے برعکس Trivial نہیں بلکہ خاصی پیچیدہ ہے۔ کہ اس میں ایک نیا Dependent Variable غبارہ آگیا۔

      1. آپ کی اس وضاحت نے مجھے ڈسکریٹ میتھ اور سیٹ تھیوری دیکھنے پر مجبور کیا جس کے لیے میں آپ کا شکرگزار ہوں۔ حالانکہ میری دلچسپی ہمیشہ طبعیات اور حیاتیات میں رہی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میتھ سائنس کی ماں ہے۔ باقی جیسا میں نے اپنے پہلے ایک تبصرے میں وضاحت کی کہ میرا مقصد “لامحدود” کا اپلائیڈ میتھ اور پیور میتھ کے حوالے سے مقام واضع کرنا نہیں تھا بلکہ میرا مقصد لامحدود کے فلسفیانہ پہلو سے تھا۔ جو کہ کبھی بھی انسانی دماغ میں نہیں سما سکتا۔
        امید کرتا ہوں کے آپ سے ایسے ہی موضوعات پر دوبارہ گپ شپ ہو گی۔

  7. موضوع سے ہٹ کر تبصرہ کرنے پر پہلے تو معذرت۔
    لگتا ہے ماحول بدل رہا ہے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ دو لوگ بحث کر رہے ہیں اور ابھی تک خوشگوار موڈ میں سیکھنے سیکھانے میں مصروف ہیں۔ ورنہ پہلے بلاگستان میں کہیں اتنی بات ہوتی تو بحث کا اصل موضوع کہیں کھو جاتا اور بات ”تو تو میں میں“ پر آ جاتی۔

  8. عثمان صاحب آپ سے بات چیت دلچسپ رہی امید ہے دوبارہ ایسی ہی ڈسکشن کا موقع ملتا رہے گا
    میرے موضوع میں دلچسپی لینے کے لیے آپ کا بہت شکریہ!

  9. اب جناب آغا وقار نے اے آر وائی پر بھی گاڑی چلا کر دکھا دی ہے کیا کہیں گے آپ ! اب بھی اسے جھٹلائیں گے ؟

    1. محترم انیس احمد شاد بھائی! آغا وقار کے کام کے بارے میں میری رائے اب بھی وہی ہے جو میں نے اس پوسٹ میں بیان کی تھی۔ اور ہم پاکستانیوں کے لیے یہ انتہائی خوشی کی بات ہوتی اگر آغا وقار کا کام سائنسی اور حقیقت پر مبنی ہوتا مگر افسوس ایسا نہیں ہے۔گاڑی چلا کر دیکھانا کاقی نہیں۔جب تک اس کی سائنسی وضاحت نہ ہو۔شعبدہ باز ایسے کئی کام کر کے دیکھا سکتے ہیں۔

  10. السلام علیکم
    مجھے لامحدود کی بحث پڑھ کر ایک فقرہ یاد آ گیا ۔ شاید آئن سٹائن کا ہے۔
    “دوچیزیں لامحدود ہیں، کائنات اور بےوقوفی۔۔۔۔۔ لیکن کائنات کے بارے میں مکمل یقین سے نہیں‌کہہ سکتا “:)
    اب آتے ہیں‌تھوڑا سا موضوع کی طرف۔
    میرا خیال ہے جو موضوع آپ نے چھیڑا ہے اس پر ایک “لامحدود” بحث ہو سکتی ہے 🙂 اور میں‌بحث تو کرنہیں‌سکتا۔ (سرگوشی: اوپر بیان کئے گئے اصول کے مطابق خود پر اوپر بیان کئے گئے اصول کا باقی غیر بیانیہ حصہ خود پر نافذ کرتے ہوئے:)
    اس موضوع پر میں‌بھی کافی تجسس رکھتا ہوں۔ آپ کی دلسچپی کو دیکھتے ہوئے ایک بات بتاتا ہوں۔ ریاضیات کے ایک ماہر کے بارے پڑھا تھا کہ وہ “لامحدود” کو سمجھتا تھا۔ یہ ایک پیدائشی جینیس تھا۔ نام تھا اس کا “سرینواسا رامنوجن” ۔ اس کا تعلق برصغیر سے تھا۔ یعنی اس لحاظ سے آپ فخر بھی کر سکتے ہیں کہ یہ انسان اس خطے سے تعلق رکھتا تھا جو کبھی ہماری مشترکہ ملکیت میں‌تھا۔ 🙂 اس کی سوانح عمری رابرٹ کینجل نامی سائنسی و تکنیکی مضامین و کتب لکھنے والے بندے نے شائع کی اور اس کا عنوان تھا ۔
    The Man Who Knew Infinity
    پڑھا سنا تھا کہ اسی نام سے اس کی زندگی پر فلم بھی بنائی جا رہی ہے پتا نہیں‌اس کا کیا بنا۔
    اور اس کے بارے میں‌ایک اہم بات یہ کہ اس نے صرف 33 برس کی عمر پائی 🙁
    اتنی کم عمر کے باوجود اس نے علم ریاضی پر بہت سا کام کیا۔
    مزید تفصیل جاننا چاہیں تو یہ لنک دیکھ لیں‌یا گوگل کر لیں۔
    http://en.wikipedia.org/wiki/Srinivasa_Ramanujan
    کچھ مزید بھی لکھنے کا دل کر رہا ہے اس موضوع پر لیکن ذہن منتشر ہو رہا ہے۔
    (یار یہ سارے جینیس اتنی کم عمر کیوں‌پاتے ہیں‌:( اور آپ نے یہ موضوع ملاقات کے دوران کیوں‌نہ چھیڑا 🙂
    خوش رہیں
    بہت جئیں
    والسلام

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *