February 21, 2013 - غلام عباس مرزا
20 تبصر ے

فطرت

مکھیآئیں! آج کچھ فضول سا کام کرتے ہیں۔ کچھ بچگانہ سا، کچھ پاگلوں جیسا۔آئیں! کچھ دیر کے لیے دنیاوی جھمیلوں اور نفع نقصان کو بھول جاتے ہیں۔آئیں! کچھ وقت کے لیے عقل و خرد اور عمر کی پاپندیوں کو توڑ دیتے ہیں۔آئیں! آج روپے پیسے، کاروبار نوکری، سیاست حکومت، بجلی گیس، لین دین، مسئلے مسائل سب چھوڑ کر کچھ اور بات کرتے ہیں۔آئیں! میرے ساتھ میں آپ کو دیکھاؤں کہ کھیتوں کے بیچوں بیچ لیٹی لمبی پگڈنڈی کے کناروں پر اگی گھاس کے نیچے نیچے چیونٹیاں کیسے چلتی ہیں۔چلیں! آبادیوں سے دور پہاڑوں سے اتر کر آئی برساتی نالے کی ایک شاخ کے پاس چلیں، جس کے دونوں کناروں پر اگےسرکنڈے کے گنے جھنڈوں میں سے بعض یوں جھک گئے ہیں کہ ان کے سروں پر موجود سفید مخملی شگوفے ساکن پانی کو چھو رہے ہیں۔آئیں! ایک دیہاتی کچے رستے سے تھوڑی دور، ہری ہری گندم کے وسیع کھیت کے اس پار کھڑے شہتوت کے اکیلے درخت کی پتلی شاخوں میں چھپے فاختہ کے گھونسلے کے اندر جھانکیں۔چلیں! دریا کے پار، بیلے میں پھیلی دراز قد خشک گھاس کے درمیان، مٹی کے ننھے سے ٹیلے کی اوٹ میں جنگلی خرگوشوں کا بل دیکھیں۔ آئیں! کسی پرانی عمارت کے کھنڈر کی دراڑ سے نکلے پیپل کے نوخیز پودے کا مشاہدہ کریں۔چلیں! آج برگد کے بوڑھے درخت پر رہنے والی گلہریوں کے گھر کا سراغ لگاتے ہیں۔آئیں! آج کسی بیابان میں خودرو پھول ڈھونڈتے ہیں۔ چلیں! آج کسی ایسی جگہ چلیں جہاں ہواکی سرسراہٹ سنائی دے۔آئیں! مصنوعی روشنیوں اور کنکریٹ کی دیواروں سے دور، کسی ایسے متروک کچے رستے پر پیدل چلتے ہیں جو گھاس سے اٹ گیا ہو۔ چلیں آئيں! دو شاخہ دریا کے درمیان پھیلی چمکیلی ریت پر دوڑتے لمبی ٹانگوں والے چیونٹے کی چال دیکھیں۔چلیں آج دیکھتے ہیں، کہ بجڑا اپنا گھونسلا کیسے بنتا ہے۔ آئیں! آج کسی چشمے کے کنارے بیٹھ کر پانی کی گنگناہٹ سنیں اور شفاف پانی میں تیرتی بچہ مچھلیوں کی چمک دیکھیں۔چلیں آج دیکھیں، کہ ڈھلتی شام شفق کے شوخ رنگوں سے افق کے کینوس پر کیسی خوبصورت تصویریں بناتی ہے۔ آئیں! آج گھاس پر لیٹ کر نیلے آسمان میں تیرتے سفید بادلوں میں چیزوں کے ہیولے تلاش کرتے ہیں۔
جی کیا کہا؟۔۔۔۔۔۔۔نہیں!؟
کیا آپ کے پاس فطرت کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں؟
کیا آپ آسودہ ہیں؟
کیاآپ مطمئن ہیں؟
کیا آپ زندہ ہیں؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 20 تبصرے برائے تحریر ”فطرت

  1. مرزا صاحب، آج کا انسان مصنوعی زندگی کا عادی ہو گیا ہے۔ آپ نے جن ننھی ننھی خواہشات کا اظہار کیا ہے وہ خوشیاں‌واقعی ہم کھو چکے ہیں۔ بہت خوب لکھا ہے آپ نے

  2. ہماری طرح جو لوگ مشینوں سے کچھ زیادہ ہی لگاؤ رکھتے ہیں ان پر یہ وقت ضرور آتا ہے۔ آخر مشین مشین ہوتی ہے اور فطرت فطرت ہوتی ہے۔
    ”آئیں! آج کچھ فضول سا کام کرتے ہیں۔“ ویسے اس فضول سے کام میں ہی زندگی ہے۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور سکون ہی سکون۔ بڑے بڑے شوق، بے آرامی ہی بے آرامی۔۔۔

  3. بہت خوب ، میں تو ہر منظر کو تصور میں دیکھ کے آگئی 🙂 میرے پاس ایسے کاموں کے لیئے وقت نکل ہی آتا ہے ۔۔

  4. کاش یہ سب میں بھی کرسکتی ۔۔۔۔یہاں اس ریگستان میں بہت ترقی کے بعد باہر نکلے بھی تو اونچے اونچے عمارات اور گاڑیوں سے آباد سڑکیں ہی نظر آتی ہیں۔ یہ سب خواب و خیال تک ہی ممکن ہے ، جس کے دستِ قدرت میں ہے وہ خوب موقعہ سے فائدہ اٹھا لیجئے گا آپ خوش قسمت ہو اس معاملہ میں

  5. آداب!

    بڑی عجیب بات ہوئی،،،،،،
    یہ تحریر مجھے پرانے دنوں کی سیر پر لے گئی۔ چینوٹ میں اپنی پھپھو کے ساتھ اپنے پھپھی زاد بہن بھائیوں کے ہمراہ سبزے سے بھرے کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر بھاگتے ہوئے بارش میں نہاتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن یہ بات عجیب نہیں، یہ حال تو تحریر پڑھ کر ہوا، اصل میں عجیب بات تو یہ ہوئی کہ میں نے جب اپنا حال بیان کرنا چاہا تو عباس صاحب کی طرف سے دی گئی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اردو پر کلک کر دیا اور لگا لکھنے مگر۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہ لکھا جا رہا تھا، میں حیران، کیوں بھائی! کیا مسئلہ ہو گیا؟ بہت سر پٹخا مگر اس مسئلے کا کوئی حل سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔۔ اب اپنے دل کی بات بھی لکھنی تھی، سو مغز ماری شروع کر دی، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ،

    بہت دیر بعد سمجھ میں آیا کہ “پاک اردو انسٹالر” انسٹال کیا ہوا ہے، اور اس میں بھی “اردو” کو بحال کر رکھا ہے، اور یہاں بھی اردو کی سہولت استعمال کرنا چاہتا ہوں تو (اب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ “لوہے کو لوہا کاٹتا ہے”) اسی لیے قلم نے چلنے سے انکار کر دیا ہے۔
    پھر،
    پھر کیا، پھر ہم نے جھٹ سے “پاک اردو انسٹالر” میں انگریزی کو بحال کیا اور فٹ سے قلم دوڑنے لگا۔
    اور ہم یہاں پہلی بار حاضری دے پائے۔

    امید ہے، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، ، آئندہ بھی آپ کو پریشان کریں گے۔

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *