March 1, 2014 - غلام عباس مرزا
22 تبصر ے

روشنی

روشنیکئی دنوں سے اس موضوع پرکچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر مصروفیت کچھ ایسی بے ترتیب اور غیر متوقع سی رہی کہ ناکام رہا۔ آپ میری اس وضاحت کو سستی کا جواز سمجھ لیجیے۔ کبھی کبھی تو صورت حال کچھ ایسی رہی کہ بقول خالد مسعود “اکی سکنٹ دی ویہل وی کوئی نہی تے بہورا جنا کم وی کوئی نہی”(ایک سیکنڈ کی فرصت بھی نہیں ہے اور تھوڑا سا کام بھی نہیں ہے)۔ بہرحال آج ارادہ کیا ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھ کر ہی رہوں گا۔
روشنی ، جسے سائنس کی ‍زبان میں دیکھائی دینے والی روشنی کہا جاتا ہے ہماری کائنات کا انتہائی اہم جز ہے۔ میرے جیسے ایک عام آدمی کے لیے روشنی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہی ہے کہ یہ ہمیں دیکھنے کے قابل بناتی ہے، یعنی جب یہ چیزوں سے ٹکرا کر ہماری آنکھ کے اندر پہنچتی ہے تو ہی ہم دیکھ سکتے ہیں۔قدیم لوگ بشمول ارسطو روشنی کو ایک پراسرار اور غیر مرئی چیز سمجھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ روشنی ایک جگہ سے دوسری جگہ وقت لیے بغیر اور سفر کئے بغیر ہی پہنچ جاتی ہے۔ ارسطو کا ماننا تھا کہ روشنی کا کوئی وجود تو ضرور ہے مگر اس کی رفتار لامتناہی ہے۔ بہرحال تب بھی کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ روشنی کی رفتار لامتناہی نہیں ہوتی۔ پھر جوں جوں سائنسی فکر نے ترقی کی تو انسان نے جان لیا کہ روشنی کو بھی فاصلہ طے کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور یہ بھی مخصوص رفتار رکھتی ہے۔ آج ہمیں روشنی کی ٹھیک ٹھیک رفتار معلوم ہے اور اس کی فطرت اور ماہیت سے متعلق بھی ہم نے بہت کچھ جان لیا ہے، مگر شاید اس کی پراسراریت آج بھی کم نہیں ہوئی۔
آج سے تقریبا ایک ہزار سال پہلے مسلم سائنسدان البیرونی اور ابن الہیشم یہ بات جانتے تھے کہ روشنی لامتناہی رفتار نہیں رکھتی اور روشنی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ سترھویں صدی میں گلیلیو اور اس کے ہم عصر سائنسدانوں نے روشنی کی رفتار ناپنے کے لیے تجربات کا آغازکر دیا تھا اور یہ سلسلہ شاید آج بھی جاری ہے۔ بیسویں صدی کے درمیان میں ہم روشنی کی رفتار بہترین درستگی کے ساتھ جان چکے تھے جو کہ خلا میں سفر کرتے ہوئے 299,792,458 میٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ روشنی کی رفتار کثیف واسطوں میں سست ہو جاتی ہے مثلا پانی کے اندر چلتے ہوئے روشنی کی رفتار225,563,010 میٹر فی سیکنڈ رہ جاتی ہے جبکہ شفاف شیشے میں یہ اور بھی سست ہو جاتی ہے اسی طرح ہیرے کے اندر اس کی رفتار خلا کی نسبت آدھے سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں کئی تجربات کئے گئے جن میں روشنی کو مخصوص واسطوں سے گزار کر اسقدر سست کر دیا گیا کہ ایک وقت کے لیے وہ بالکل ساکن ہو گی۔ یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ جب بھی روشنی کثیف واسطے سے نکل کر دوبارہ خلا میں داخل ہوتی ہے تو پھر سے اپنی اصل رفتار پر چلنے لگتی ہے ، لیکن روشنی کی رفتارسے جڑا اس سے بھی عجیب اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کائنات میں کوئی چیز روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتی اور خلا میں روشنی کی رفتار اصل میں کائناتی حد رفتار ہے۔ یعنی ہم کچھ بھی کر لیں، روشنی کی رفتار کو شکست نہیں دے سکتے، یہ بات آئین سٹائین نے ایک صدی پہلے بتا دی تھی۔
ستمبر 2011 میں سو‎ئزرلینڈ فرانس کے بارڈر پر بنائے گے دنیا کے سب سے بڑے پارٹیکل کولائیڈر(Large Hadron Collider) میں ایک تجربہ کیا گیا اور پایا گیا کہ کچھ ایٹمی ذرات(Neutrino) روشنی کی رفتار سے تیز سفر کر سکتےہیں۔ اس غیر معمولی نتیجے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا کہ آئین سٹائین غلط تھا اور روشنی کی رفتار سے تیز سفر ممکن ہے مگر تھوڑے ہی عرصے بعد سائنسدانوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی کہ آئین سٹائین کی بات آج بھی درست ہے اور روشنی کی رفتار کو شکست نہیں دی جاسکتی۔
چلیں! ایک ذہنی تجربہ کرتے ہیں اور روشنی کی رفتار کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کرتے ہیں کہ ایک ریل گاڑی ایسی ہے جو روشنی کی آدھی رفتار سے کچھ تیز یعنی 2لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ اب مزید فرض کرتے ہیں کہ ایک منچلا نوجوان اسی گاڑی کی چھت پر 2 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اسی سمت میں دوڑ رہا ہے جس سمت میں گاڑی چل رہی ہے۔ اب اگر ایک آدمی جو کہ پلیٹ فارم پر کھڑا ہے جب گاڑی کی چھت پر دوڑنے والے نوجوان کی رفتار ناپے گا تو کیا وہ 4 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ نہیں ہو جائے گی؟ جو کہ روشنی کی رفتار سے ذیادہ ہے۔آئین سٹائين نے حساب کتاب سے ثابت کیا ہم ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے، اس کے مطابق دو کی بجائے ہم لاکھوں رفتاروں کو جمع کر کے بھی روشنی کی رفتار سے آگے نہیں نکل سکتے۔ مثلا” اگر ریل گاڑی کی چھت پر بھی ایک ریل گاڑی چلے اور پھر اس کی چھت پر ایک ریل گاڑی چلے اور یہ سلسلہ لامتناہی ہو تب بھی ہم روشنی کی رفتار کی رکاوٹ کو نہیں توڑ سکتے اور ہم ہمیشہ روشنی سے پیچھے ہی رہیں گے۔
روشنی کی رفتار سے متعلق ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ روشنی کے منبع کی حرکت اور رفتار ناپنے والے کی حرکت سے روشنی کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور یہ ہمیشہ مستقل ہی رہتی ہے۔ مثلا” اگر روشنی کی ایک کرن تیز حرکت کرتے ہو‎‎ئے راکٹ سے آ رہی ہو اور راکٹ کی نسبت حالت سکون میں کھڑا مشاہد اس کرن کی رفتار ناپے، تو اس بات سے رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ راکٹ مشاہد کی طرف آ رہا ہے یا اس سے دور ہٹ رہا ہے دونوں صورتوں میں مشاہد ایک ہی رفتار نوٹ کرے گا۔انہی خوبیوں کی بنا پر روشنی کی رفتار کو کائناتی مستقل بھی کہا جاتا ہے۔
برقی مصناطیسی طیف
اب ہم روشنی کی ماہیت پر بات کرتے ہیں ۔ روشنی توانائی کے ذرات یعنی فوٹونز پر مشتمل برقی مقناطیسی لہر ہے اور یہ برقی مقناطیسی طیف کا حصہ ہے۔ پانی میں پیدا ہونے والی موجیں ہمارے لیے عام مشاہدے کی بات ہے، جو کہ ساکن پانی میں پتھر پھینکنے پر دائروں کی شکل میں بننے لگتی ہیں، روشنی بھی کچھ اسی طرح کی موج ہے۔ روشنی کی موج کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں برقی اور مقناطیسی میدان کی بات کرنی ہو گی۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر مقناطیس کے نذدیک کوئی لوہے کا ٹکڑا لایا جائے تو یہ اسے دور سے ہی اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے اصل میں ایسا اس کے اردگرد موجود مقناطیسی میدان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جوں جوں ہم مقناطیس سے دور ہٹتے جائیں میدان کی طاقت کم اور نذدیک آنے پر ذیادہ ہو جاتی ہے۔ جس طرح مقناطیس کے گرد مقناطیسی میدان موجود ہوتا ہے اسی طرف کسی چارج بردار ذرے یا چیز کے گرد برقی میدان پایا جاتا ہے۔ جب برقی یا مقناطیسی میدان کو تیزی سے جھولایا(کم ذیادہ کیا) جاتا ہےتو اس سے برقی مقناطیسی موج پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی آپ یوں سمجھ لیں کہ برقی مقناطیسی لہریں اصل میں تھرتھراتا ہوا برقی اور مقناطیسی میدان ہے۔
برقی مقناطیسی موجریڈیو اور ٹی وی کی لہریں، جی پی ایس کی لہریں، موبائل فون کی لہریں،وائی فائی کی لہریں، ایکس ریز، مائیکروویو اون کی لہریں یہ سب برقی مقناطیسی لہریں ہیں اور روشنی بھی انہی کی طرح برقی مقناطیسی موج ہے اور انہی کے گروہ کا حصہ ہے۔ یہ سب لہریں بھی روشنی کی رفتار سے چلتی ہیں۔ ان لہریوں کو عموما” طول موج کے فرق سے پہچانا جاتا ہے۔ طول موج(Wave length) کسی موج کے دو” اتار” یا دو “چڑھاؤ” کے درمیانی فاصلے کو کہتے ہیں۔ روشنی کا طول موج 500 نینو میٹر سے لے کر 800 نینومیٹر تک ہے۔ ایک نینو میٹر ایک میٹر کا ایک اربواں حصہ ہوتا ہے۔ روشنی کے مقابلے میں ریڈیو کی لہروں کا طول موج بہت بڑا یعنی کئی میٹر ہو سکتا ہے۔
روشنی سے متعلق ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ روشنی کی فطرت دوہری ہے یعنی یہ بیک وقت ذراتی بھی ہے اور موجی بھی۔ جیسا کہ اوپر بات ہوئی کہ نظر آنے والی روشنی کا طول موج 500 سے 800 نینو میٹر کے درمیان ہوتا ہے تو یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم ایسی چیزوں کو کبھی نہیں دیکھ سکتے جو روشنی کے طول موج سے بھی چھوٹی ہوں مثلا” ہم ایسی خوربین کبھی نہیں بنا سکتے جس کے ذریعے ہم 100 نینو میٹر کے ذرے کو دیکھ سکیں۔ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ہم کمپاونڈ خوردبین سے یک خلوی جراثیم کو دیکھ سکتے ہیں مگر ایٹم کو کبھی نہیں۔
سفید روشنی کو اگر منشور سے گزارا جائے تو یہ سات رنگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اصل میں یہ سات رنگ مختلف طول موج کی سات لہریں ہیں اور ہماری آنکھ صرف انہی سات طول موج کو دیکھ سکتی ہے۔ مثلا” بالائے بنفشی (ultraviolet) لہریں جن کا طول موج 500 نینومیٹر سے کم ہوتا ہے اور زیریں سرخ (infrared) جن کا طول موج 800 نینو میٹر سے ذیادہ ہوتا ہے ہمیں نظر نہیں آتیں۔ آپ نے ٹی وی کے ریموٹ کے اگلے حصے میں لگی انفراریڈ لائیٹ تو دیکھی ہو گی جب ہم ریموٹ کا کوئی بھی بٹن دباتے ہیں تو یہ لائٹ جلنے لگتی ہے مگر ہمیں اس کی روشنی نظر نہیں آتی اب اگر آپ اپنے موبائل کا کیمرہ آن کریں اور ریمورٹ کا منہ کیمرے کی طرف کرکے بٹن دبايں، آپ دیکھیں گے کہ آپ کے موبائل کی سکرین پر ریمورٹ کی لائٹ جلتی ہوئی نظر آئے گی جبکہ آپ اسے آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔
روشنی کی دوہری فطرت اور کئی دوسری باتیں جیسے لیزر، روشنی کے انعطاف اور انعکاس وغیرہ پر بھی بات کرنا چاہتا تھا مگر سوچ رہا ہوں پہلے ہی پوسٹ جس قدر طویل اور غیر دلچسپ ہو چکی ہے وہ ہی کافی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جو تھوڑے بہت مہربان میرے بلاگ پر آ ہی جاتے ہیں آئیندہ ان کرم فرماؤں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 22 تبصرے برائے تحریر ”روشنی

  1. ایسی تحاریری کو اُردو میں لکھنا واقعی کمال ہے، میرے جیسے بہت سارے لوگ جو کہ دوسری زبانوں میں تحاریر و تحقیق کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے اُن کے لئے اُردو زبان میں سائنسی وتحقیقی مواد کا ملنا قابل ستائش کام ہے۔ اُمید ہے کہ آپ اور بھی موضوعات پر قلم اُٹھا کر ہماری رہنمائ کریں گے اور علم میں اضافہ بھی۔

  2. واہ عباس صاحب ، اگرچہ یہ تصورات ہم نے اپنی تعلیمی زندگی کے دوران پڑھے ہوتے ہیں‌لیکن اس وقت زیادہ فکر پاس ہونے کی ہوتی ھے اور عملی زندگی میں اس کے اطلاق کے بارے میں زیادہ غوروفکر نہیں کرتے اور بعد میں کولہو کے بیل بن کر اس کی ضرورت محسوس نہیں‌کرتے ۔ الیکٹرو میگنیٹک ویوز کا تصور اگر سمجھ آئے گائے تو پھر باقی ریڈیو اور وائرلیس تھیوری چاکلیٹ کیک بن جاتی ھے ۔
    آپ ایسی عمدہ معلوماتی تحاریر لکھتے رہا کریں انتظار رہے گا

  3. یار اس سائنسی بلاگ پر بھی تم نے نظر ثانی آن کر رکھی ھے تو باقی نجی معاملات میں کیا حال ہو گا ۔ نگہ ایک ہی کافی ہوتی ہے ، وہ جو بظاہر ایک نگہ سے کم ہوتی ھے 😀

  4. ایسے موضوعات پر ایک مکمل بلاگ ہونا چاہیے۔ فقط ایک یا دو پوسٹ، سائنسی علم کی طلب رکھنے والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے ناکافی ہیں، ہا ہا ہا، بہت عمدہ جناب، اور جوں جوں ہم سائنس کے ذریعے کائنات کی پیچیدگیوں سے واقف ہوتے جاتے ہیں ہمیں اتنا ہی ادراک ہوتا چلا جاتا ہے کہ ہم کتنے بے بس ہیں، ہم فقط 500 نینو میٹر سے 800 نینو میٹر کے درمیان آنے والے ذرات ہی دیکھ سکتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم وہی دیکھ سکتے ہیں جو وحدہ لاشریک ہمیں دکھانا چاہتا ہے، نہ اس کی حد سے ایک درجہ کم نہ اس حد سے ایک درجہ زیادہ۔ اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ اگر جن و انس میں ہمت ہے تو وہ اپنی متعین حدوں سے باہر نکل جائیں، اور وہ کبھی ایسا کر نہیں سکیں گے۔ (قرآنی آیت کی فقط ایک تشریح)

  5. بہت عمدہ موضوع اور بہت عمدہ تحریر
    لیکن میرا یہ خیال ہے کہ ابھی سائنس نے جتنی ترقی کی ہے اس کے مطابق روشنی کی رفتار سے تیز سفر ممکن نہیں۔ لیکن کل کلاں‌کوئی نیا تجربہ/مشاہدہ اس نظریے کو تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ 🙂

    1. جی بالکل! کل کو آئین سٹائین غلط ثابت ہو سکتا ہے شاید کبھی روشنی سے بھی تیز سفر ممکن ہو سکے جیسے “وارپ ڈرائیو” کا تصور ہے۔ یا ہو سکتا ہے مستقبل میں سفر کی نوعیت ہی بدل جائے جیسے “ورم ہول” کا تصور ہے۔
      تعریف کے لیے بہت شکریہ!

  6. بہت ہی عمدہ تحریر اور اردو میں جیسے آپ نے تفصیل سمجھایا ایسے تو کبھی کالج میں پروفیسرز نے بھی نہیں پڑھایا تھا۔

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *