October 5, 2015 - غلام عباس مرزا
4 تبصر ے

تلاش

بابا جی :- (جذبے کے ساتھ) “اُس کا ہر کام کرم، اُس کا ہر فعل عدل، دکھ بھی اُس کے، سکھ بھی اُس کے، میں بھی اُس کا تم بھی اُس کے”۔
میں:- “بابا جی! آپ زندگی کے ہر پہلو ہر معاملے کو خدا تعالٰی سے منسوب کرتے ہیں- آپ کی تعلیم ہمیشہ یہ ہی ہوتی ہے کہ خوشی، غم، صحت بیماری، امیری غریبی، عزت ذلت، زندگی موت سب اُسی کی طرف سے ہے۔ لیکن بابا جی! آپ اُن لوگوں کی زندگی بارے کیا کہیں گے جو اللہ تعالٰی کو سرے سے مانتے ہی نہی!”
بابا جی:- (مسکرا کر) “بیٹا! انسان تو انسان اس کائنات میں کوئی ایسی چیز کوئی ایسا ذی روح نہیں ہے جو خدا کا انکار کر سکے”۔
میں:- “مگر بابا جی دنیا میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر ناصرف خدا کا انکار کرتے ہیں بلکہ مذہب کو انسانی عقل کی اختراع بتاتے ہیں، ان کے نذدیک خدا کا تصور ایک وہم سے ذیادہ اور کچھ بھی نہیں”۔
بابا جی :- “بیٹا! وہ خدا کا انکار نہیں کرتے، خدا کا انکار تو ممکن ہی نہیں”۔
میں:- “بابا جی! کیسے ممکن نہیں؟”
باباجی:- “بیٹا! اگر میں کہوں جہاں ہم بیٹھے ہیں اس جگہ دنیا کا سب سے بڑا خزانہ دفن ہے تو کیا آپ میری بات مان لو گے؟ بھلے آپ میری بات سے اتفاق نہ کرو، بھلے آپ لاکھ دلیلیں دو کہ یہاں خزانہ ہونے کے امکانات انتہای کم ہیں لیکن بیٹا ٹھوس انکار آپ بہرحال نہیں کرسکو گے، کیا پتہ خزانہ موجود ہی ہو۔ بیٹا جی! اقرار نہ کرنے کا مطلب ہمیشہ انکار نہیں ہوتا۔
میں:- “بابا جی! اگر وہ خدا کا انکار نہیں کر سکتے تو پھر وہ کس چیز کا انکار کرتے ہیں؟”
بابا جی:- “بیٹا! وہ تو خدا کے اُس تصور کا انکار کرتے ہیں جو ہم نے اپنے ذہنوں میں بنا رکھا ہوتا ہے۔ یاد رکھو! خدا کا تصور جس قدر مجسم ہو گا، جس قدر انسانی شخصیت سے مشابہ ہو گا، اس کا انکار اسی قدر آسان ہو جائے گا۔ بیٹا جی! ایک بات کا خیال رہے، جس طرح لفظ “خدا” خدا نہیں ہوتا، اسی طرح خدا کا تصور بھی خدا نہیں ہوتا”۔
میں:- “بابا جی! تو پھر خدا کا تصور کیسا ہونا چاہیے؟”
بابا جی:- “بیٹا جی! یہ ہی تو خدا کی تلاش ہے”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”تلاش

  1. عباس میں آپ کا احسان مند ہوں۔۔۔خدا کا انکار اپنی ہستی کا انکار ہے، اپنی ہستی کا انکار کیونکر ممکن ہے۔۔۔مجھے روحانیت کا ذرے برابر تعارف ایک عیسائی پادری نے کرایا ۔۔۔اور میں لادینیت سے واپس اپنی ہستی کی پناہ میں آگیا۔

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *