February 12, 2016 - غلام عباس مرزا
2 تبصر ے

ایٹم کی کہانی

ہائی سکول میں پڑھائی گئی سائنس میں ہمیں ایٹم اور اس کی ساخت بارے جو کچھ بھی پڑھایا جاتا ہے اور جو بھی تفصیلات بتائی جاتی ہیں وہ اگر ہمیں نہ بھی یاد ہوں تو کم از کم دو چیزیں ضرور ذہن میں رہ جاتی ہیں، اوّل لفظ “ایٹم” اور دوسرا اس سے جڑا یہ تصور کہ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے۔ چلیں! ہم اپنی کہانی کا آغاز بھی انہی دو باتوں سے کرتے ہیں۔
لفظ ایٹم قدیم یونانیوں نے استعمال کیا تھا جس کا مطلب ہے ناقابل تقسیم، یعنی “وہ” جس سے چھوٹا کچھ نہ ہو۔ ہم سکول میں بھی یہ ہی پڑھتے ہیں کہ ایٹم مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم ایٹم کو مادے کی اکائی تو کہہ سکتے ہیں مگر یہ ناقابل تقسیم یا مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ نہیں ہوتا۔ ایٹم بھی کئی چھوٹے معلوم اور نامعملوم ذرات پر مشتمل ہوتا ہے اور اب تک ایٹم کے اندر دسیوں ذرے دریافت ہو چکے ہیں جبکہ مزید کی تلاش جاری ہے۔ پرانے خیال کے برعکس ایٹم کو توڑا اور تباہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
اگر ایٹم کے حجم یا سائز کی بات کی جائے تو یہ واقعی بہت چھوٹا ہوتا ہے ایٹم کا اوسط حجم لگ بھگ 100 پیکو میٹر ہوتا ہے۔ یہ اتنا چھوٹا حجم ہے کہ اگر دس ارب ایٹموں کو اوپر نیچے یعنی ایک کے اوپر دوسرا جوڑا جائے تو صرف ایک میٹر انچائی ہی بن پائے گی جبکہ دس ارب اتنا بڑا عدد ہے کہ اگر ایک روپے کے دس ارب سکے اوپر نیچے رکھے جایں تو ان کی انچائی پندرہ ہزار کلومیٹر بن جاتی ہے یعنی “کے ٹو” پہاڑ سے پانچ سو گنا ذیادہ۔ ایٹم اسقدر چھوٹا ہوتا ہے کہ اسے دیکھنا ممکن ہی نہیں اور ایسی کوئی بصری خوردبین نہیں بن سکتی جس سے آنکھ لگا کر ہم ایٹم کو دیکھ سکیں۔ حالانکہ الیکٹران خوردبین سے کچھ ایسی تصویریں بنائی گئی ہیں جس میں ایٹموں کی قطاریں نظر آتی ہیں مگر یہ طریقہ آنکھ سے دیکھنے جیسا نہیں ہے بلکہ یہ یوں ہے کہ جیسے کسی چیز کو گھپ اندھیرے مین ٹٹولا جائے اور پھر اسی حساب اور احساس کے بل بوتے پر تصویر بنا لی جائے۔ ایٹم کے اسقدر چھوٹا ہونے کے باوجود ہم نے ایٹم کے بارے میں بہت کچھ جان لیا ہے۔ مثلاُ ہم مختلف ایٹموں کو الگ الگ پہچان سکتے ہیں، ان کے مرکزوں میں موجود ذرات گن سکتے ہیں۔ مرکزوں کے گرد گردش کرتے الیکٹران گن سکتے، ایٹم کے مرکزے میں موجود پروٹان اور نیوٹران پھر یہ ذرات جن بنیادی ذرات کے ملنے سے بنے ہیں کا حساب لگا سکتے۔ ہم ایٹم اور اس کے اندر موجود ذرات کا وزن(کمیت) معلوم کر سکتے، ہم ان ذرات پر موجود چارج کی مقدار معلوم کر سکتے ہیں،ہم ان کے گھومنے کی سمت جان سکتے ہیں۔ ہم جان چکے ہیں کہ ایٹم کا سارے کا سارا وزن اس کے انتہائی چھوٹے مرکزے میں ہوتا ہے اور ایٹم کے اندر باقی بہت سی جگہ بالکل خالی ہوتی ہے۔ اگر زمین پر رہنے والے تمام انسانوں کے جسموں میں موجود ایٹموں کے اندر سے تمام خالی جگہ نکال دی جائے تو تمام کے تمام انسان اپنے تمام تر وزن کے ساتھ ایک ماچس کی ڈبی میں سما جایں گے۔
اب یہاں سوال یہ ہے، کہ ایک نہ نظر آنے والے انتہائی چھوٹے ذرے سے متعلق سائنس نے یہ سب کچھ کیسے معلوم کر لیا؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں قدیم یونانی فلسفی “دی مقراطیس” (Democritus) سے شروع کرنا پڑے گا۔

آج سے تقریباً پچیس سو سال پہلے لگ بھگ ارسطو کے دور میں ایک یونانی فلسفی “دی مقراطیس” نے سوچا کہ اگر کسی بھی چیز کو کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور پھر ان میں سے ایک حصہ لے کر اسے ایک بار پھر دو حصوں میں کاٹ دیا جائے اور تقسیم در تقسیم کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے تو ہم ایک ایسے انتہائی چھوٹے ذرے تک پہنچ جایں گے جسے مزید تقسیم کرنا ممکن نہ ہوگا، دی مقراطیس وہ شخص تھا جس نے پہلی دفعہ ایسے ناقابل تقسیم ذرے کے لیے “ایٹم” کا لفظ استعمال کیا۔ دی مقراطیس نے کہا کہ کائنات میں موجود تمام مادہ ایٹم نامی چھوٹے ذرات سے مل کر بنتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح اینٹوں سے مل کر مکان بنتے ہیں۔ “دی مقراطیس” نے مختلف چیزوں کے ایٹموں کے شکل اور ساخت میں مختلف ہونے کی بات کی۔ “دی مقراطیس” کا خیال تھا کہ چیزوں کا ذائقہ ان کے ایٹموں کی شکلوں پر منحصر ہوتا ہے۔ ایٹم کے بارے میں “دی مقراطیس” کا نظریہ تجربات اور سائنسی شہادتوں پر مبنی نہیں تھا، اس نے کوئی عملی تجربہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ محض غور فکر کی بات تھی۔ “دی مقراطیس” کے خیال کو ہم ایک سائنسی نظریہ نہ بھی مانیں پھر بھی وہ ایک سائنسی نظریے کی ابتدا ضرور تھا۔ ایٹم سے متعلق “دی مقراطیس” کا ایٹمی ماڈلزیہ نظریہ لگ بھگ بائیس سو سالوں تک کسی تبدیلی یا بہتری کے بغیر جوں کا توں قائم رہا۔
“دی مقراطیس” کے بعد انیسویں صدی کے شروع میں انگریز سکول ماسٹر اور سائنسدان “جان ڈالٹن” (John Dalton) وہ پہلا شخص تھا جس نے ایٹمی نظریے کو آگے بڑھایا۔ یہ انیسویں صدی کے شروع کی بات ہے جب بھاپ سے چلنے والا انجن دن بدن اہمیت اختیار کر رہا تھا، انہی دنوں میں “جان ڈالٹن” نے بھاپ اور دوسری گیسوں پر درجہ حرارت کے اثرات بارے کئی تجربات کئے، مختلف گیسوں کے بلکا یا بھاری ہونے کی جانچ کی اور اپنے مشاہدے اور تجربات سے حاصل دیٹا کی بنیاد پر1808 میں پہلا باقاعدہ ایٹمی ماڈل پیش کیا۔ “جان ڈالٹن” کے ایٹمی ماڈل کے بنیادی نکات کچھ اس طرح سے تھے۔
1۔ مادہ انتہائی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جہیں ایٹم کہتے ہیں۔
2۔ ایٹم کو تقسیم، تباہ یا پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ ایک عنصر(مثلاً لوہا) میں پائے جانے والے تمام ایٹم ہم شکل، ہم وزن ہوتے ہیں اور ایک جیسی خصوصیات رکھتے ہیں۔
4۔ جب دو عناصر مل کر مرکب بناتے ہیں تو ان میں سادہ نسبت ہوتی ہے مثلاً دو ایک، تین چار وغیرہ، یہ نہیں کہ ڈھائی، ساڑھے چار وغیرہ۔
5۔ مرکبات بننے کے عمل میں نئے ایٹم نہیں بنتے بلکہ ایٹم نئی ترتیب پا جاتے ہیں مثلاُ جب ہم کاسٹک سوڈا اور نمک کے تیزاب کو ملاتے ہیں تو پانی اور نمک بن جاتا ہے اب پانی اور نمک میں موجود ایٹم وہی ہیں جو کاسٹک سوڈا اور نمک کے تیزاب میں تھے صرف وہ نئی ترتیب پا گئے ہیں۔
“جان ڈالٹن” کے اس ایٹمی ماڈل کو جدید ایٹمی نظریے کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ اس ماڈل میں کچھ باتیں تو وہی “دی مقراطیس” والی ہیں جیسے ایٹم کا انتہائی چھوٹا اور ناقابل تقسیم ہونا اور ایک عنصر کے ایٹموں کا ہم شکل ہونا وغیرہ جبکہ ایٹم کے وزن اور مرکبات بننے کے عمل کی ایٹمی وضاحت نیا اضافہ تھا۔ بہرحال “جان ڈالٹن” نہیں جانتا تھا کہ ایٹم کی ساخت کیا ہے؟ اور دو مختلف عناصر کے ایٹموں میں ساخت کے اعتبار سے کیا فرق ہوتا ہے؟، یا ایٹم کا حجم کتنا ہے۔ اس کے نذدیک ایٹم ایسا ناقابل تقسیم ٹھوس ذرہ تھا جو کئی شکلوں اور اوزان جے جے تھامسنمیں پایا جاسکتا ہے۔
انیسویں صدی کی آخری دہائی میں جب بجلی اور بلب ایجاد ہو چکے تھے تب انگریز سائنسدان “جے جے تھامسن” (J. J. Thomson) نے شیشے کی نلی میں کم پریشر پر بھری گیسوں سے بجلی گزارنے بارے مسلسل تجربات کئے۔ جے جے تھامسن کے تجربات “کیتھوڈ ریز ٹیوب” پر مشتمل تھے۔ اگر ہم روشنی کے لیے استعمال ہونے والے انرجی سیور یا ٹیوب لائیٹ راڈ کو ذہن میں لائیں تو جے جے تھامسن کی کیتھوڈ ریز ٹیوب کو بہت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ٹیوب لائیٹ راڈ صاف شیشے کی نلی سی ہوتی ہے جس کے دونوں سروں پر بجلی سے جوڑنے کے لیے تاریں لگی ہوتی ہیں جنہیں الیکٹروڈ کہا جاتا ہے۔ نلی میں ہلکے پریشر پر گيس بھر دی جاتی ہے اور نلی کے اندر کی طرف سفید رنگ کا پاوڈر چپکا دیا جاتا ہے جو بجلی گزارے جانے سے پیدا ہونے والی شعاعوں کے ٹکرانے سے چمکتا ہے اور ٹیوب روشن معلوم ہوتی ہے۔ “جے جے تھامسن” کی ٹیوب بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ “تھامسن” نے کہا کہ جب ٹیوب کے الیکٹروڈز کو ہائی وولٹ کی بجلی سے جوڑا جاتا ہے تو منفی سرے سے مخصوص شعاعیں خارج ہونے لگتی ہیں جو نظر نہیں آتیں مگر جب یہ ٹیوب میں بھری گیس یا ٹیوب کے اندر لگائے گئے مخصوص مادے سے ٹکرتی ہیں تو وہ چمکنے لگتا ہے۔ چونکہ یہ شعاعیں منفی سرے سے خارج ہو رہی تھیں اور منفی سرے کو کیتھوڈ کہتے ہیں لہٰذا انہیں کیتھوڈ ریز کا نام دیا گیا۔ “تھامسن” نے جب ان شعاعوں کو مقناطیسی میدان اور چارج برادار پلیٹوں کے درمیان سے گزارا تو وہ مثبت چارج والی پلیٹ کی طرف جُھک گئيں جس سے واضع ہو گیا کہ وہ منفی چارج کی حامل ہیں، مزید دیکھا گیا کہ وہ مقناطیسی میدان سے بھی مڑتی ہیں۔ “تھامسن” نے نتیجہ نکالا کہ یہ شعاعیں اصل میں منفی چارج رکھنے والے تیز رفتار ذرات ہیں جو کہ وزن بھی رکھتے ہیں۔ انہی ذرات کو الیکڑان کا نام دیا گیا۔ یہ ایٹم کے اندر پائے جانے والے پہلے ذرے کی دریافت تھی۔ جے جے تھامسن نے مزید تجربات کئے اور ان ذرات پر موجود چارج اور ان کی کمیت کی نسبت معلوم کی یعنی تھامسن نے حساب لگایا کہ اگر ایک گرام الیکٹران ہوں تو ان پر اتنا چارج ہو گا۔ تھامسن کا یہ کام سائنس کے لیے بہت بڑی پیش رفت تھی جس کے اعتراف میں اسے 1906 میں نوبیل انعام دیا گيا۔ “تھامسن” نے اپنی اس دریافت سے ایٹم کے اندر کی عجیب و غریب دنیا کا دروازہ کھول دیا تھا۔
“جے جے تھامسن” کے تجربات سے چند سال پہلے جرمن سائںسدان “گولڈ سٹین” (Goldstein) یہ جان چکا تھا کہ گيس ڈسچارج ٹیوب میں جہاں منفی سرے سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں وہاں مثبت شعاعیں بھی موجود ہیں جنہیں گولڈ سٹین نے “کینال ریز” کا نام دیا۔ اب جہاں “جے جے تھامسن” نے دریافت کیا کہ کیتھوڈ ریز منفی چارج رکھنے والے تیز رفتار ذرات(الیکٹران) ہیں وہاں مثبت شعاعوں کی دریافت اس بات کی دلیل تھی کہ ایٹم کے اندر مثبت چارج بھی موجود ہے۔
ایٹم سے متعلق اس ساری معلومات کے تحت “جے جے تھامسن” نے ایٹم کا جو خاکہ بنایا وہ کچھ یوں تھا، “ایٹم مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہے جس کے اندر یکساں طور پر پھیلے ہوئے مثبت چارج میں منفی چارج رکھنے والے الیکٹران یوں پھنسے ہوتے ہیں جیسے فروٹ کیک کے اندر خشک میوے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھنسے ہوتے ہیں، یوں الیکٹرانوں کا منفی چارج اردگرد پھیلے مثبت چارج سے متوازن ہو جاتا ہے”۔ اس اعتبار سے “جے جے تھامسن” کے اس ایٹمی ماڈل کو “پلم پڈنگ ماڈل” ( plum pudding model) کہا گيا۔ پلم پڈنگ فروٹ کیک کی طرح کا ایک میٹھا ہے جو انگلستان میں کرسمس کے تہوار پر بنایا جاتا ہے۔
رادرفورڈیہاں تک بننے والے ایٹم کے خاکے میں انتہائی اہم اضافہ نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والے انگریز سائنسدان “رادر فورڈ” (Ernest Rutherford) نے کیا۔ “رادر فورڈ” وہ سائنسدان ہے جسے نیوکلیائی طبعیات کا باپ کہا جاتا ہے۔ “رادر فورڈ” کو (Michael Faraday)”ما‏ئیکل فراڈے” کے بعد سب سے بڑا سائنسی تجربہ کار مانا جاتا ہے۔ “رادرفورڈ” کو تابکاری کے متعلق کام پر 1908 میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا۔
“رادر فورڈ” کی ایٹمی تحقیق اور ایٹمی ماڈل پر بات کرنے سے پہلے چند باتیں تابکاری کے بارے میں۔ قدرت میں کچھ عناصر(مثلاً ریڈیم، یورینیم، پلوٹونیم وغیرہ) ایسے پائے جاتے ہیں جن سے مسلسل نہ نظر آنے والی شعاعیں خارج ہوتی رہتی ہیں۔ آپ نے ایسی گھڑی تو ضرور دیکھی ہو گی جس کا ڈائیل اندھیرے میں چمکتا ہے، یا گھریلو بجلی کے ایسے سوئچ جو ہلکی روشنی خارج کرتے ہیں اور اندھیرے میں بخوبی نظر آ جاتے ہیں۔ اصل میں ایسی گھڑیوں یا بجلی کے سوئچوں میں تابکار عنصر “ریڈیم” (radium) ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ شعاعوں کے ٹکرانے پر روشنی خارج کرنے والا مادے(fluorescent material) بھی شامل کر دیا جاتا ہے، ہوتا یہ ہے کہ ریڈیم سے نکلنے والی شعاعیں اس کے ساتھ ملے چمکنے والے مادے سے ٹکراتی ہیں تو وہ ہلکی روشنی دینے لگتا ہے۔
“رادرفورڈ” نے تابکار شعاعوں کی دھار کو جب مقناطیسی میدان سے گزارا تو وہ تین قسموں میں تقسیم ہو گئیں جنہیں ایلفا، بیٹا، اور گیما شعاوں کا نام دیا گیا، ان میں الفا شعاعیں مثبت چارج والے نسبتاً بھاری ذرات تھے۔ الفا شعاعوں کو لے کر “رادرفورڈ” (اور اس کے ساتھیوں) نے 1913 میں”گولڈ فوائل تجربہ” (Gold foil Experiment) کیا(اصل میں یہ تجربات کا سلسلہ تھا)۔ اس تجربے میں “رادر فورڈ” نے الفا شعاعوں کی دھار بنائی اور اُس کے سامنے سونے کا ایک باریک ورق رکھ دیا، “رادرفورڈ” دیکھنا چاہتا تھا کہ سونے کے ورق سے ٹکرانے کے بعد شعاعیں کیا ردعمل دیتی ہیں۔ ورق سے ٹکرانے کے بعد شعاعیں کس طرف کو جاتی ہیں یہ جاننے کے لیے رادرفورڈ نے ورق کے اردگرد فوٹوگرافک پلیٹ یا فلم رکھ دی جس پر شعاعوں کے ٹکرانے سے دھبے پڑ جاتے ہیں اور اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ (شعاعیں) کہاں کہاں اور کس مقدار میں ٹکرائیں تھیں۔ کئی مرتبہ تجربہ دہرانے کے بعد “رادرفورڈ” نے پایا کہ ذیادہ تر الفا ذرات بغیر کسی رکاوٹ کے سونے کے ورق کے پار بالکل سیدھا گزر جاتے ہیں حالانکہ ورق میں کوئی سوراخ یا مسام نہیں تھے۔ جبکہ کچھ ذرات بہت بڑے زاویوں پر مڑ جاتے ہیں اور کچھ ورق سے ٹکرا کر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ سونے کے ورق سے ذیادہ تر الفا ذرات کا سیدھا گزر جانا اس باتی کی دلیل تھا کہ ایٹم کے اندر بہت سی جگہ بالکل خالی ہے جبکہ کچھ ذرات کے بڑے زاویوں پر مڑنے سے پتہ چلا کہ ایٹم کے اندر مرکز میں نسبتاً چھوٹی مگر انتہائی ٹھوس چیز موجود ہے، “رادرفورڈ” نے اسے نیوکلئيس(مرکزہ) کا نام دیا۔ سونے کے ورق والے تجربے کے بعد “رادرفورڈ” نے ایٹم کا جو خاکہ بنایا وہ کچھ یوں تھا:-
ایٹم میں بہت سی جگہ خالی ہے۔
اور اس کے مرکز میں ایک ٹھوس نیوکلئيس موجود ہوتا ہے۔
ایٹم کے نیوکلئيس میں مثبت چارج پایا جاتا ہے۔جب کہ منفی چارج والے الیکٹران نیوکلئيس کے گرد گردش کرتے ہیں۔
ایٹم کا اصل وزن (کمیت) اس کے نیوکلئیس میں ہوتا ہے۔
الیکٹرانوں اور مرکز میں موجود مثبت چارج کے درمیان برقی کشش ہوتی ہے لہٰذا یہ مرکز کے گرد اسی طرح چکر لگاتے ہیں جیسے زمین سورج کے گرد کشش ثقل کی وجہ سے چکر لگاتی ہے۔
“ردرفورڈ” کے اس ایٹمی ماڈل سے “جے جے تھامسن” کے پلم پڈنگ ماڈل کا رد ہو گیا جس میں مثبت اور منفی چارج باہم ایک ساتھ ملا ہوا بتایا گیا تھا۔ لیکن “رادر فورڈ” کے اس ماڈل کے ساتھ بھی کچھ مسائل تھے مثلاً ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ ایک گردش کرتا ہوا چارج بردار ذرہ (الیکٹران) لازمی توانائی خارج کرے گا لہٰذا اس کی رفتار جلد کم ہو جائے گی اور وہ ایٹم کے مرکز سے ٹکرا جائے گا اس طرح ایٹم تباہ ہو جائے گا جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ “رادر فورڈ” کے ماڈل کے اس مسئلے کا حل ڈینمارک کے سائسندان “نیلز بوہر”(Niels Bohr) نے پیش کیا۔
بیسیوں صدی کے شروع میں جب بلب ایجاد ہو چکا تھا تب مشہور جرمن سائنسدان “میکس پلانک” (Max Planck) نے بلب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے “بلیک باڈی ریڈی ایشن” کے سلسلہ وار تجربات شروع کئے۔ پلانک معلوم کرنا چاہتا تھا کہ بلب فلامنٹ کے درجہ حرارت اور اس سے خارج ہونے والی روشنی کی نوعیت، ان دو چیزوں کا ریاضیاتی تعلق کیا ہے۔ میکس پلانک کے تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات کچھ ایسی تھی کہ جس کی وضاحت “رادرفورڈ” کے ایٹمی ماڈل کی روشنی میں نہیں ہو سکتی تھی۔ پھر اس کی وضاحت ” بوہر” نے پیش کی۔
“بوہر” نے بتایا کہ ایٹم کا مثبت چارج اس کے مرکز میں ہوتا ہے جبکہ منفی چارج والے الیکٹران اس مرکز کے گرد مخصوص مداروں یا چھلوں میں گردش کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح سورج کے گرد زمین اور دیگر سیارے گردش کرتے ہیں، فرق بس یہ ہے کہ سیاروں کی گردش کشش ثقل کے باعث جبکہ الیکٹران کی گردش برقی قوت کے باعث ہوتی ہے۔ لیکن جب ایٹم کو(حرارت وغیرہ کی شکل میں) توانائی دی جاتی ہے جیسا کہ بلب کے فلامنٹ کا معاملہ ہے تو اس کے الیکٹران توانائی جذب کر کے نیچے والے مداروں سے اوپر والے مداروں میں چلے جاتے ہیں، پھر جب یہ الیکٹران دوبارہ نیچے اپنے مدار میں لوٹتے ہیں تو روشنی کی شکل میں وہ ہی توانائی خارج کر دیتے ہیں جو جذب کی تھی۔ “نیلز بوہر” نے ایک عجیب بات بتائی کہ الیکٹران گردش کرتے ہوئے مخصوص مدار میں ہی رہتا ہے جبکہ دو مداروں کے درمیان موجود جگہ میں کبھی کسی صورت نہیں پایا جاتا، مطلب ایک مدار سے دوسرے مدار میں چھلانگ لگاتے ہوئے الیکٹران درمیانی راستے میں کبھی بھی موجود نہیں ہوتا یعنی ایک مدار سے غائب ہو کر دوسرے مدار میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ اصل میں یہ کونٹم فزکس کی ابتدا تھی۔ “رادرفوڈ” اور “بوہر” جانتے تھے کہ ایٹم کے اندر الیکٹران اور پروٹان کے علاوہ بھی کوئی ذرہ موجود ہے جو ایٹم کے وزن میں بڑا حصہ رکھتا ہے۔ 1922 میں “بوہر” کو فزکس کا نوبیل انعام دیا گیا۔
نیوٹران1932 میں انگریز سائنسدان “جیمز چیڈوک” (James Chadwick) نے پلونیم سے پیدا کی گئی الفا شعاعوں کو بریلیم دھات سے گزارا تو بغیر چارج رکھنے والی شعاعیں خارج کرنے لگی جو کہ اصل میں نیوٹران تھے۔ جب “چیڈوک” نے ان نیوٹرل شعاعوں کو موم سے گزارا تو یہ موم سے مثبت چارج والی شعاعیں یعنی پروٹان خارج کرنے کا باعث بن گئيں۔ اس تجربے سے “چیڈوک” نے نتیجہ نکالا کہ ایٹم کے مرکزہ میں مثبت چارج والے پروٹان کے ساتھ بغیر چارج والا نیوٹران ذرہ بھی موجود ہے جو وزن میں پروٹان ہی کا ہم پلہ ہے تبھی تو وہ موم سے مثبت شعاعوں یعنی پروٹان کو نکال سکا۔ “چیڈوک کی اس دریافت پر 1935 میں اسے نوبیل انعام دیا گیا۔
یہاں تک بننے والا ایٹم کا تصور کچھ یوں تھا کہ ایٹم مادے کی اکائی ہے۔
ایٹم کے مرکز میں پرٹان اور نیوٹران پائے جاتے ہیں۔ جبکہ مرکز کے گرد لیکٹران مخصوص مداروں مین گردش کرتے ہیں۔
ایٹم میں الیکٹران اور پروٹان کی تعداد ایک جیسی ہوتی ہے۔ یعنی جتنے الیکٹران اتنے ہی پروٹان۔
ایٹم کا اصل وزن پروٹان اور نیوٹران پر مشتمل ہوتا ہے۔
تقریباً اسی دور میں نوبیل انعام یافتہ جرمن سائنسدان ” ہائزن برگ” اور نوبیل انعام یافتہ آسٹرین سائنسدان “شروڈنگر” نے پتہ چلایا کہ ایٹمی سطح پر انتہائی چھوٹے ذرات کے مقام اور حرکت بارے ٹھیک سے کچھ نہیں بتایا جا سکتا اور صرف امکان بتایا جا سکتا ہے کہ فلاں ذرے کے فلاں جگہ ہونے کے اتنے امکانات ہیں۔ “شروڈنگر” نے جو مساوات دی اس سے ہم ایٹم کے مرکزہ کے گرد گردش کرنے والے الیکٹرانوں کے موجود ہونے کے امکان کا نقشہ بنا سکتے ہیں۔ مثلاُ یوں کہا جا سکتا ہے کہ الیکٹران مرکز کے گرد کسی سیارے کی طرح گردش کرنے کی بجائے شہد کی مکھیوں کی طرح بہت تیزی سے بھنبھناتے رہتے ہیں اور ایک بادل سا بنا لیتے ہیں۔ اب ہم امکانات کے اس بادل کا نقشہ تو بنا سکتے ہیں مگر الیکٹرانوں کی حرکت اور مقام بارے ٹھیک سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
پروٹانایٹم اور اس کے اندر موجود ذروں کی ساخت اور حقیقت بارے جاننے کے لیے سائنسدانوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایٹم اور اس کے اندر موجود ذروں کو توڑا جائے اور دیکھا جائے کہ اندر سے کیا برآمد ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے “پارٹیکل ایکسلریٹرز” کی مدد لی جاتی ہے۔ پارٹیکل ایکسلریٹرر ایس مشین ہوتی ہے جو کس بھی چارج بردار ذرے کو کمپیوٹر سے کنٹرول کئیے گئیے برقی مقناطیسوں کی مدد سے بہت ہی تیز حرکت دے سکتی ہے۔ پھر ان تیز رفتار ذروں کو آپس میں ٹکرایا جاتا ہے اور انتہائی حساس الات کی مدد سے برآمد ہونے والے مادے اور توانائی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کچھ اسی طرح کے تجربات کی بنا پر آج ہم ایٹم کے اندر کئی درجن قسم کے   ذرات کا پتہ چلا چکے ہیں۔ مثلاً آج ہم جاتنے ہیں کہ ایٹم کے مرکزہ میں پایا جانے والا مثبت ذرہ پروٹان تین کوارک اور تین گلوآن پر مشتمل ہوتا ہے۔
lhcفرانس اور سوٹزرلینڈ کے بارڈر پردنیا کا سب سے بڑا پارٹیکل ایکسلریٹر چند سال پہلے ہی مکمل کیا گیا ہے جس کا نام “لارج ہیڈران کولائیڈر” (Large Hadron Collider) ہے۔ یہ تقریباً 27 کلومیٹر لمبی دائرے کی شکل کی سرنگ میں واقع ہے جو کہ لگ بھگ 600 فٹ کی گہرائی میں زمین کے اندر بنائی گئی ہے۔ 2013 اسی ایکسلریٹر میں دو ذرات کو روشنی کی قریبی رفتار سے ٹکرایا گیا اور “ہگس بوسون” (Higgs boson) نامی ایک نئے ذرے کی تصدیق ہو گئی جو کہ پہلے سے متوقع تھا۔
ہیگس بوسون کی طرح ہو سکتا ہے کسی دن یہ خبر آ جائے کہ ایٹم کے اندر موجود کشش ثقل کے ذمہ دار تصوراتی ذرے گریویٹان (Graviton) کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ سائنس کی دنیا میں بہت اہم دن ہو گا۔
آج سائنسدان اس بات کی کھوج کرنے میں جٹے ہیں کہ ایٹم میں موجود بنیادی ذرات کی حقیقت کیا ہے؟ ایک نظریہ یہ ہے ان ذرات کے پیچھے توانائی کی تھرتھراتی تاریں ہیں جو ان ذرات کو وجود بخشتی ہیں۔ توانائی کی ان تھرتھراتی تاروں کا یہ جدید نظریہ سٹرنگ تھیوری (string theory) کہلاتا ہے۔ بہرحال مادے کی حقیقت جانے کی یہ کھوج شاید کبھی ختم نہ ہو گی کہ جہاں کائنات میں بے حساب مادہ ہے کیا پتہ وہاں ایک ذرے میں پوری کائنات پوشدہ ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ایٹم کی کہانی

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *