February 23, 2012 - غلام عباس مرزا
18 تبصر ے

البیرونی اور زمین کی پیمائش

اس پوسٹ کا اصل مقصد تو اس طریقہ کار کا مختصر بیان ہے جو البیرونی نے زمین کی پیمائش کے لیے اختیار کیا، لیکن تفصیل میں جانے سے پہلے البیرونی کا مختصر تعارف۔

نام:- أبو الريحان محمد بن أحمد البيرونی

پیدائش۔ خوارزم کے مضافاتی قریہ بیرون(موجودہ ازبکستان،ترکمانستان) میں 973ء میں پیدا ہوئے۔آپ بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔

وفات:- 1048ء

کارنامے:- آپ ریاضی، فلکیات، طبیعات، تاریخ، تمد ن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ کے ماہر تھے اور ان موضوعات پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے جن کا مقصد علم کا فروغ اور انسانیت کی بھلائی ہے۔ کتابوں میں چند مشہور یہ ہیں قانون المسعودی، الآثار الباقیہ عن القرون، الخالیہ ،خواص الادویات اور کتاب الہند۔ سلطان محمود غزنوی کے دور میں موجودہ پاکستان آئے اور پنڈ دادنخاں کے قریب قلعہ نندنہ میں قیام کیا ۔ قیام کے دوران زمین کا رداس معلوم کیا جو آج بھی  ایک فیصد سے بھی کم فرق کے ساتھ درست ہے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام “البیرونی کریٹر”(Al-Biruni crater) رکھا گیا ہے ۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ البیرونی نے آج سے تقریبا” ایک ہزار سال قبل زمین کی پیمائش حیرت انگیز درستگی کے کہ ساتھ کیسے کر لی؟یہاں بتاتا چلوں کہ البیرونی کا معلوم کیا گیا زمین کا رداس 6335 کلومیٹرہےجبکہ ناسا کے مطابق زمین کا موجودہ معلوم رداس 6371 کلومیٹر ہے ۔

پیمائش کی یہ کہانی البیرونی سے پہلے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے مامون الرشید سے شروع ہوتی ہے جب اس نے ماہرین کے دو گروپوں کو زمین کی پیمائش کا کام سونپا۔ ان ماہرین نے صحرا میں شمال اور جنوب کی طرف سفر کیا اور دوپہر کے وقت سورج کے زاوے کی بار بار پیمائش کر کے زمین کا محیط معلوم کیا جو کہ بعد میں البیرونی کے معلوم کئے گئے محیط سے کافی قریب تھا۔ البیرونی بھی ان ماہرین کے نقسے قدم پر چلنا چاہتا تھا اور زمین کی پیمائس مزید صحت اور درستگی کے ساتھ کرنا چاہتا تھا لیکن سرمایے کی کمی اور صحرا میں سفر جیسے مشکل اور خطرناک کام کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکا۔ تب الیبرونی نے الجبرے اور جیومیٹری کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی پیمائش کے  ایک ایسے طریقے کا کھوج لگایا جو نسبتا” آسان اور نتائج کے حوالے سے انتہائی کارگر تھا۔ البیرونی کے اس طریقہ کار کو ہم تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں

1۔ مناسب پہاڑی کا انتخاب کرنا جس کے سامنے ہموار میدان دور تک پھیل گیا ہو تاکہ وہاں سے افق واضع نظر آ سکے اور اس پہاڑی کی ٹھیک ٹھیک بلندی معلوم کرنا۔

2۔ پہاڑی کی چوٹی سے افق کا زاویہ معلوم کرنا

3۔ الجبرے اور جیومیٹری کے استعمال سے زمین کا رداس معلوم کرنا

امکان عالب ہے کہ البیرونی نے افق کا زاویہ ناپنے کے لیے اپر تصویر میں دیکھائی گئی پہاڑی کا انتخاب کیا تھا۔ آپ تصویر میں دیا گیا طول بلد، عرض بلد گوگل ارتھ میں دے کر پہاڑی کا معائنہ کر سکتے ہیں۔

پہاڑی کے انتخاب کے بعد دوسرا مرحلہ پہاڑی کی بلندی ناپنے کا تھا۔ اس کے لیے البیرونی نے درج ذیل طریقہ اختیار کیا۔


البیرونی نے پہاڑی سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر زمین سے پہاڑی کی چوٹی کا پہلا زاویہ (θ 1) معلوم کیا پھر فاصلہ d طے کیا اور دوسرا زاویہ (θ 2) معلوم کیا پھر ان دونوں معلوم شدہ زاویوں اور ان کے ردمیان طے شدہ فاصلے d کی قیمت متعلقہ فارمولے میں دے کر پہاڑی کی بلندی معلوم کر لی۔

زاویے معلوم کر نے کے لیے البیرونی نے اسطرلاب (Astrolabe) نامی آلہ استعمال کیا۔

یہاں اس آلے سے متعلق تھوڑی سی وضاحت کر دوں۔ تصویر میں آپ کو بڑے سے ڈائل والا آلہ نظر آ رہا ہے جس کے درمیان میں گھڑی کی سوئی جیسی ناب لگی ہوئی ہے، زمین سے پہاڑی کی چوٹی کا زاویہ معلوم کرنے کے لیے سوئی نما ناب کے دونوں سروں اور پہاڑی کی چوٹی کو ایک سیدھ میں کر کے دیکھا گیا جس طرح بندوق کی شست دیکھ کر نشانہ لیا جاتا ہے جب تینوں ایک سیدھ میں نظر آنے لگے تو ڈائل پر لکھے درجے دیکھ کر زاویہ نوٹ کر لیا گیا۔

پہاڑی کی بلندی معلوم کرنے کے بعد البیرونی نے پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر آلے کی مدد سے دور نظر آنے والے افق( وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں) کا زاویہ معلوم کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس پیمائش کے لیے البیرونی کافی عرصہ تک نندنہ کے قلعے(اپر تصویر میں نندنہ کے قلعے کے کھنڈرات دیکھائے گئے ہیں جو پنڈ دادنخاں سے 22 کلومیٹر دور اب بھی موجود ہیں) میں قیام  پزیر رہا اور جب اسے لگتا کہ فضا صاف ہے تو وہ پہاڑی پر چڑھ کر یہ پیمائش کرتا۔ اور درست نتائج کے لیے اس نے کئی بار یہ عمل دوہرایا۔

افق کا زاویہ معلوم کر لینے کے بعد البیرونی نے درج ذیل حساب کتاب کیا اور زمین کا رداس معلوم ہو گیا۔ اگر آپ نے ہائی سکول میں الجبرا اور جیومیٹری پڑھی ہے تو آپ تصویر دیکھ کر البیرونی کے فارمولے کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔


اس سارے عمل میں البیرونی نے کل چار قیمتیں معلوم کیں اسطرلاب کا استعمال کر کے تین زاویے، اور ایک فاصلہ۔ دو زاویے اور ایک فاصلہ پہاڑی کی بلندی معلوم کرنے کے لیے اور پھر افق کا زاویہ آخری نتیجہ حاصل کرنے کے لیے۔

اگر آپ سائنس کے طالب علم ہیں اور البیرونی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود سے زمین کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں۔ تو میری طرح آپ بھی سادہ سا آلہ بنا کر یہ تجربہ کر سکتے ہیں۔ میرا بنایا گیا آلہ نیچے تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔ یہ آلہ بنانے کے لیے میٹر راڈ جیسا لکڑی کا ایک ٹکڑا، زاویہ ناپنے والا پروٹیکٹر، ایک دھاگہ اس کے ساتھ لٹکانے کے لیے کوئی ہلکا سا وزن اور چند کیلوں کی ضرورت ہو گی۔ ان چیزوں کو آپ تصویر کے مطابق جوڑ کر اپنا اسطر لاب بنا سکتے ہیں۔


اس آلے کی مدد سے آپ کسی بھی عمارت، پہاڑی یا ٹاور کی بلندی بغیر اپر چڑھے معلوم کر سکتے ہیں۔ اور اگر چاہیں تو البیرونی کی طرح زمین بھی ناپ سکتے ہیں۔

میں نے کوشش کی ہے کہ اس پوسٹ میں دی گئی معلومات مستند ہو، حوالہ کے روابط نیچے پیسٹ کر رہا ہوں اگر کہیں کوئی غلطی ہو تو امید ہے آپ نشاندہی کریں گے اور مجھے اصلاح کا موقع ملے گا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 18 تبصرے برائے تحریر ”البیرونی اور زمین کی پیمائش

  1. واہ، کمال کی معلومات دیں آپ نے صاحب۔۔۔
    غلطیوں کی نشاندہی تو اساتذہ ہی کر سکتے ہیں۔ ہاں ہم اس کو پھیلانے کا ضرور اہتمام کریں گے۔

  2. بہت دلچسپ، بہت کارآمد، بچوں کے لیے خاص طور پر اہم-
    میری درخواست ہے کہ آپ یہ مضمون ماہنامہ گلوبل ساینس http://www.globalscience.com.pk میں “آسان اور کم خرچ ساینسی تجربات” جیسے زمرے میں ضرور بھجوایں

    شکریہ

  3. یہ بہت مستند تاریخی حقائق ہیں جو آپ نے بیان کئے۔ البیرونی نے نندنہ کو زمین کا مرکز قرار دیا تھا، ، ابھی تک ان لوگوں کو اہل مغرب بھی نہیں بھولے، آج کی سائنس کے بانی بلا شبہ ان لوگوں کو مانا جاتا ہے،
    اب افسوس تو یہ ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی اس میراث کے خود کو اہل ثابت نہ کرسکے۔

  4. بہت عمدہ تحریر ہے، ویکینڈ پر بچوں کے ساتھ کرنے کے لئے ایک بہترین پراجیکٹ۔ لکڑی کے ٹکڑے پر لیزر بیم لگا کر اسکے استعمال کو مزید دلچسپ بنایا جاسکتا ہے۔ شکریہ!

    1. نوازش! آپ نے ٹھیک کہا بچوں کو ایسی سرگرمی ضرور کروانی چاہیے۔لیزر کا اضافہ کر کے زاویہ ناپنے کے عمل کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ ایکسیلرومیٹر والا موبائل بھی مدد کر سکتا ہے۔

  5. میرے خیال میں اب اردو بھی اس قابل ہوتی جا رہی ہے اور ہمیں بھی اب اسے اس قابل کر دینا چاہیے کہ اردو میں سائنس کے نام سے ایک مشترکہ سائنسی بلاگنگ کی جائے
    جہاں سائنس کی ہر شاخ پر مواد جمع کیا جائے
    اور بچوں کے حوالے سے خصوصی ٹھکانہ ہونا چاہیئے
    میری گزارش ہے اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے
    ویکی پیڈیا سے ترجمہ کب تک کرتے رہی گے
    اس کی افادیت اپنی جگہ مگر اب ہم سنجیدہ نہ ہوں گے تو کب ہوں گے؟
    اردو پیڈیا ہو یا ڈکشنری ہو لیا انسائیکلو پیڈیا
    محمود قاسم صاحب کی ادھوری سنجیدہ کاوش کو مزید آگے بڑھانے کا کام ہر شخص انفرادی طور پر کسی 1 جگہ جمع کراکر اسے یکجا کیا جا سکتا ہے
    یہان ایسے بھی لوگ ہیں جو اس معاملے مین سنجیدہ ہیں ان سے میری درخواست ہے غور کیجئے

  6. جی بالکل جناب! میں نے اس وڈیو کا لنک یہاں دے رکھا تھا اور دوسرے لنک بھی مگر کچھ وجوہات کی بنا پر لنک ہٹانے پڑے۔ اب دوبارہ دے دوں گا۔

  7. اس موضوع پر اس سے اچھا مضمون پہلے پڑھنے کو نہیں ملا۔ لائق صد ستائش معلومات دی گئی ہیں ۔۔۔۔ اسطرلاب اور اصطرلاب میں کیا فرق ہے؟
    یہ زمین کی پیمائش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یا فلکیات سے متعلق ہے؟

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *