August 1, 2012 - غلام عباس مرزا
30 تبصر ے

آغا وقار کی ایجاد یا فراڈ؟

آغا صاحب کی ایجاد کے جھوٹ سچ سے پہلے ان کے “انقلابی کام” کا تھوڑا سا تعارف۔ آغا وقار کا تعلق سندھ کے کسی گاؤں سے ہے اور غالبا” الیکٹریکل میں ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ گزشتہ دنوں مین سٹریم میڈیا میں ان کی ایجاد کا خوب چرچہ ہوا ہے۔ میڈیا کے مطابق انہوں نے ایک ایسی کٹ بنائی ہے جسے کسی بھی گاڑی میں لگا کر اسے صاف پانی پر چلایا جا سکتا ہے یعنی جس گاڑی میں یہ کٹ نصب ہو گی اسے پیٹرول، ڈیزل، سی این جی یا کسی دوسرے ایندھن کی کوئی ضرورت نہیں صرف صاف پانی ڈالتے جایں اور گاڑی چلتی جائے گی اس کے علاوہ آغا وقار نے بتایا کہ اس ایجاد کے ذریعے بجلی کے جینریٹرز بھی پانی پر چلائے جا سکتے ہیں اور ملک میں جاری توانائی کا موجودہ بحران بہت جلد ختم ہو سکتا ہے۔
آغا وقار کی تیار کی گئی کٹ جو کہ حامد میر کے پروگرام میں دکھائی گئی وہ دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصے میں پانی کی برق پاشیدگی کی جاتی ہے اور دوسرے میں اس سے پیدا شدہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیسوں کو فلٹر کیا گیا ہے۔ برق پاشیدگی والا حصہ عام گھروں میں استعمال ہونے والے واٹر فلٹر میں بجلی کے الیکٹروڈ لگا کر بنایا گیا ہے جبکہ کہ گیسوں کی فلٹرنگ کے لیے ایک بوتل استعمال کی گئی ہے جس میں گیسوں کو کسی مائع غالبا” پانی سے گزارا گیا ہے تاکہ پانی کو توڑنے کے دوران بنی بھاپ الگ ہو جائے۔ پھر آکسیجن اور ہائیڈروجن کے آمیزے کو انجن میں جلنے کے لیے دیا جاتا ہے جس سے انجن چلتا ہے۔ اور اس طرح آغا وقار نے اپنی بنائی گئی کٹ لگا کر محض پانی پر گاڑی چلا کر دکھائی بلکہ حامد میر نے خود گاڑی ڈرائیو کی۔
اب سوال ہے کیا سائنسی لیحاظ سے ایسا ممکن ہے کہ گاڑی مکمل طور پر پانی سے چلائی جاسکے؟ تو جواب ہے نہیں!۔ وہ اس طرح کہ تھرموڈائنامکس کے اصولوں کے مطابق اور توانائی کی بقا کے قانون کے تحت ایسا ممکن نہیں۔ اس بات کی وضاحت یہ ہے کہ پانی کو توڑنے کے لیے بیٹری سے برقی توانائی لی گئی اب اس سے گیس بن گئی جب اس گیس کو انجن میں جلایا گیا تو حرات پیدا ہوئی اور اس حرارت کی توانائی کو انجن نے حرکی توانائی میں تبدیل کر دیا اور انجن گھومنے لگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انجن کی پیدا شدہ حرکی توانائی اس برقی توانائی سے ذیادہ ہے جو بیٹری سے لی گئی تھی؟ یقینا” نہیں۔ کیونکہ بہت سی توانائی حرارت اور رگڑ کی صورت میں ضائع ہو جاتی ہے۔
پانی کی برق پاشیدگی کے دوران مندرجہ ذیل عمل ہوتا ہے۔
2H2O…Electrolysis…2H2+O2
جب گیسوں کے آمیزے کو انجن میں جلایا جاتا ہے تو کچھ ایسا عمل ہوتا ہے
2H2+O2….Combustion….2H2O
یعنی پہلے پانی برق پاشیدگی سے ٹوٹا اور پھر انجن میں گیسوں کے جلنے سے دوبارہ پانی بن گیا اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پانی تو وہیں کا وہیں رہا اور ہمیں مفت میں توانائی عنائت کر گیا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ہم منگلہ ڈیم کے پانی کے اخراج پر بڑے بڑے ٹیوب ویل لگا دیں اور وہ ٹربائنوں سے آنے والا پانی دوبارہ ڈیم میں چڑھا دیں اور ان ٹیوب ویلوں کو انہی ٹربائنوں کی بجلی سے چلایا جائے۔ اس طرح ڈیم بھی بھرا رہے گا اور بجلی بھی بنتی رہے گی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن ہے؟ اگر نہیں! تو پھر سمجھ لیں کہ آغا صاحب کی واٹر کار بھی ممکن نہیں۔
اب کچھ لوگ سوال کریں گے کہ آغا صاحب نے تو سب کے سامنے گاڑی چلا کر دکھائی اگر وہ سائنسی اعتبار سے ممکن نہیں تھا تو گاڑی کیسے چل گئی!۔ تو عرض ہے کہ گاڑی کے چلنے کے پیچھے کئی ایک باتیں ہو سکتی ہیں مثلا” گاڑی کی بیٹری پہلے سے چارج تھی اور اس سے برق پاشیدگی کا عمل جاری ہو گیا لیکن جوں جوں گاڑی چلتی جائے گی بیٹری بھی ڈسچارج ہوتی جائے گی اور ایک وقت بیٹری کے ختم ہونے سے برق پاشیدگی کا عمل رک جائے گا اور نتیجے کے طور پر گاڑی بند ہو جائے گی۔ اب آغا صاحب کا کہنا ہے کہ بیٹری ساتھ ساتھ انجن سے چارج ہو جاتی ہے۔ ان کی اس بات کا جواب یہ ہے کہ جب بیٹری کا ڈسچارج ریٹ اس کے چارجنگ ریٹ سے ذیادہ ہو گا تو بیٹری مسلسل چارجنگ ملنے کے باوجود بھی ختم ہو جائے گی۔ اس بات کی جانچ کے لیے آغا صاحب کی گاڑی کی بیٹری کی ڈسچارج کرنٹ اور انجن سے آنے والی چارجنگ کرنٹ کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری بات کہ ہو سکتا ہے آغا صاحب نے کوئی خفیہ ایندھن استعمال کیا ہو جو ہائیڈروجن کے ساتھ چلتا ہو اس بات کی جانچ کے لیے گاڑی کے آیگزاسٹ پر آلہ لگا کر دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر تو وہاں خالص پانی آ رہا ہے تو پھر تو گاڑی میں ہیڈروجن کے علاوہ کوئی اضافی ایندھن استعمال نہیں ہو رہا اور اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ یا کاربن کے دوسرے مرکبات آ رہے ہیں تو ثابت ہو جائے گا کہ کوئی خفیہ ایندھن استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایگزاسٹ سے مکمل پانی آ رہا ہے تو اسے جمع کیا جائے اور اس پانی کی مقدار کا کٹ میں ڈالے گئے پانی کی مقدار سے موازنہ کیا جائے تو بات واضع ہو جائے گی کہ ہائیڈروجن کا کوئی خفیہ سورس استعمال کیا گیا ہے کہ نہیں۔
اب ہم فر‍ض کرتے ہیں کہ آغا وقار نے کچھ ایسا کر دکھایا ہے کہ جس سے سائنس کے بنیادی اصول بدل گئے ہیں جیسے کوانٹم میکینکس کے آنے سے نیوٹن کی فزکس غلط ہو گئی تھی اگر ایسا ہو گیا ہے تو پھر سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے کیونکہ سائنس کی دنیا میں بھوچال آنے والا ہے اور ہماری زندگیاں سر سے پا بدلنے والی ہیں۔ اگر آغا صاحب فراڈ نہیں ہیں تو دنیا سے توانائی کے تمام مسائل ختم ہو جایں گے، اب ہمیں ڈیم بنا کر بجلی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں، سولر انرجی کی اہمیت ماضی کا حصہ بننے لگی ہے۔ اب ہمیں اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ چارج نہیں کرنے پڑیں گے۔ بجلی کی ترسیل کے لیے بڑی بڑی ٹرانسمیشن لائنیں ڈالنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ فوسل فیول سے چلنے والے انجنوں سے پیدا شدہ آلودگی کا خطرہ نہیں رہے گا، بیٹری سیل ختم ہو جایں گے، سیٹلائٹس پر سولر پینلز لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی، ایٹمی توانائی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جائے گی، اپنی کہکشاں سے نکل کر دوسری کہکشاؤں کا سفر ممکن ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔،
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آغا صاحب اتنی بڑی تبدیلیوں کا موجب بن سکتے ہیں؟؟ ہگس بوزان تک پہنچ جانے والی سائنس جو آج سے دو سو سال پہلے جانتی تھی کہ پانی کو گیسوں میں توڑا جا سکتا ہے اور انجن میں جلایا جا سکتا ہے وہ آج تک اس سادی سی بات سے کیسے بے خبر رہی جو دنیا کو یکسر بدل سکتی ہے؟؟
سازش!! واقعی بہت بڑی سازش!!۔
مجھے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خاں اور ڈاکٹر شوکت پرویز کی باتوں پر حیرت ہے جو انہوں نے حامد میر کے پروگرام میں کیں۔ بہرحال ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ وہ اصلی موجد پیدا کر سکے اور ایسا تبھی ہو گا جب ہم یہ مان لیں گے کہ ہماری مٹی نم نہیں ہے ہمیں اسے نم کرنا ہے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کی خرابیوں اور کمییوں کی نشاندہی کر کے ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ تاکہ ہمارے موجد خارجی دنیا میں ہمارے لیے شرمندگی کی بجائے فخر کا موجب بن سکیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 30 تبصرے برائے تحریر ”آغا وقار کی ایجاد یا فراڈ؟

  1. قدیر خان کو بدنام نہ کرو
    اس نے کہا کہ وہ گاڑی چلا کے دکھا رہا ھے اور کسی بھی معائنے واسطے تیار ہے تو تم اسکو ایسے ذلیل مت کرو، ہو سکتا ہے کہ اس نے واقعی ایسا کر دیا ہو جیسا کہہ رہا ہے
    عطاالرحمٰن اور قدیر خان دونوں نے ایک ہی بات کری پر دونوں‌کے بات کرنے کا طریقہ الگ الگ تھا
    ایچ ای سی ڈاکٹر صاب نے خود گوبر میں‌ہاتھ لبیڑے، اور میرے‌ خیال میں اس “محیرالعقوم ایجادی” ایشو کو اتنی گرمی بھی ان کی اخلاقیات ہی کی وجہ سے ملی

    1. آغا وقار کی ڈاکٹر عطاالرحمان سے کی گئی بدتمیزی بہت بری لگی۔
      اسلئے کہتے ہیں کہ بیوقوف سے بحث مت کرو اور ڈاکٹر صاحب نے بیوقوف سے بحث کرکے غلطی کی۔
      ٹی وی کا کیا ہے اُس نے تو ٹی آر پی لینا تھا وہ لے لیا۔ پاکستان کے ایک نامور سائنس دان کو بےعزت کردی
      ڈاکٹر قدیر خان صاحب نے تعریف کی ہے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے بھی گاڑی کو ایگزیمن کرنے کا کہا ہے۔ دوبارہ اور غور سے پروگرام سنیں

  2. جی بالکل ڈاکٹر صاحب کہا ہے وہ اپنے کام کو معائنے کے لیے پیش کر رہا ہے تو اسے چیک کیا جائے۔ مجھے اس بات سے سو فیصد اتفاق ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اس بات کے سچ ہونے کا کیا امکان ہے سرٹینیٹی اور پرابیبلیٹی کیا ہے لا آف کنزرویشن آف انرجی اور تھرموڈائنامکس کے قانون کا انہدام کتنی بڑی بات ہے پھر بھی انہوں نے اتنی آسانی سے اور خاطر خواہ اعتماد کے ساتھ کہہ دیا “ہو سکتا ہے”۔ اس پر حیرت ہوئی۔

    1. اس کے لئے آپ کو سائنسی نہیں بلکہ سیاسی اصول کو نظر رکھنا پڑے گا۔
      ڈاکٹر صاحب کے نئے سیاسی منشور کی روشنی میں عوام الناس کی دل پشوری کے لئے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ پانی کیا محض دعاؤں سے بھی گاڑی چل سکتی ہے۔

  3. اسى سال  مارچ كے مهينے مين ڈاكٹر غلام سرور صاحب  جو جهلم كے رهنے والے هين نے ايك موٹر جو ديڑهـ ليٹر پانى سےكئى هزار كلوميٹر  دو سو كلو ميٹر كى رفتار فى گهـنٹۂ  سےدوڑ سكتى  هے كا ڈيمو ديا تها  اب اغا  صاحب كى يۂ كوشش اسى كا ايك چربۂ هوسكتى هے

    1. جی ابراھیم علی صاحب! میں اور میرا دوست ایم بلال خود ڈاکٹر سرور سے ملے تھے اور ان کی گاڑی بھی دیکھی تھی اور دو تین گھنٹے ان سے ڈسکس بھی کیا تھا۔ ان کی گاڑی میں پانی کے ساتھ ساتھ ڈیزل بھی چلتا ہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہے کہ ڈیزل کا خرچہ ڈاکٹر صاحب کے بقول آدھا رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر سرور کی بنائی گئی کٹ آغا وقار کی کٹ سے کئی گنا فائن ہے اور اس میں انہوں نے پلاٹینم کے الیکٹروڈز استعمال کئے ہیں۔ پھر بھی کئی مہینوں کی کوشش کے باوجود وہ اسے آغا وقار کی طرح صرف پانی پر نہ چلا سکے۔

  4. آپ نے جو مساوات لکھی ہے 2H2+O2….Combustion….2H2O ، اس کی رو سے ہاییڈروجن اور آکسیجن مل کر واپس پانی میں تبدیل ہو رہی ہیں-
    لیکن ہم یہ پڑھتے آے ہیں کہ ہاییڈروجن اور آکسیجن کو سادہ طریقہ سے ملا کر پانی حاصل نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس سے ایک دھماکہ پیدا ہوتا ہے-
    ذرا یہ ربط دیکھیں-
    http://wiki.answers.com/Q/Why_does_an_explosion_occur_when_hydrogen_and_oxygen_combine
    بہت شکریہ-

    1. احمر بھائی!ہائیڈروجن اور آکسیجن کے آمیزے کے اندر انجن میں جب سپارک دیا جاتا ہے تو بالکل دھماکہ ہوتا ہے اور حرارت بھی خارج ہوتی ہے اسی سے تو انجن چلتا ہے۔ لیکن یوں ہی ایک کنٹینر میں آکسیجن اور ہائیڈروجن رکھنے سے دھماکہ نہیں ہوتا اور نہ ہی پانی بنتا ہے۔

  5. عباس بهاى صاحب   جناب  بلال بهاى كو ميرا انكى تحرير پر اخرى تبصره پسند نهين ايا انهون نے اسے حزف كرديا پهر ميرى اپ لوگون سے ايك استدعا هے  غوركيجئے.    اپ بلاگرز سب معاشى حالت سے اور فكرو دانش كے لحاظ سے عوام الناس سے كافى بهتر هين ڈاكٹر غلام سرور كے كام كو اگے بڑها نے كى سعى سب ملكر كيجئے تو كار صرف پانى نۂ بهى چلےتب بهى ايندهن كى كفايت بيس  تا پچيس فيصد هو تو كافى  فايدا هوگا گاڑى چل نكليگى  ملك  و قوم كا بهلا هوگا.   

    1. ابراھیم علی بھائی! تبصرے کی ڈیلیشن کا جواب تو بلال صاحب ہی دیں گے۔ باقی ڈاکٹر سرور قوم کا درد رکھنے والا انسان ہے اس کی واقعی حوصلہ آفزائی ہونی چاہیے۔

  6. آغا صاحب کی ایجاد کے بارے میں‌کوئی تبصرہ کرنا بغیر کسی معائنے کے کچھ ذیادہ مناسب نہیں‌ اور ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے بھی یہی غلطی کر دی ہے ۔ ٹی وی کے پروگرام میں‌ دو تین گھنٹے ضائے کرنے سے بہت بہتر تھا کے ادھا گھنٹا لگا کر جانچ کر لیتے اور لوگوں‌کا اور اپنا وقت بچانے میں‌مدد کرتے۔ جہاں‌تک سوال ہے توانائی کے قانون کی وہ اتنا سیدھا نہیں‌ہے جتنا بتایا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر اس تحریر پر زرا نظر ڈالیں
    http://en.wikipedia.org/wiki/Maxwell's_demon
    جو اصل قانون زیر بحث آنا چاہیے تھا وہ فیراڈے کا برقی پاشیدگی کا قانون ہے ۔۔۔ جس پر کئی برسوں‌سے کام ہو رہا ہے اور برقی پاشیدگی میں‌نئے نئے تجربات کئے جا رہے ہیں‌جس میں‌سے ایک تجربہ ہے کے اگر پانی میں‌ارتعاش پیدا کیا جائے تو کیا ارتعاش کی کسی خاص فریکوئنسی پر پانی کو اس کے اجزاء میں‌توڑا جا سکتا ہے یا نہیں‌ ۔۔۔ آغا صاحب بھی ایسا ہی کچھ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں‌ ۔۔۔ باقی ادھے گھنٹے سے ذیادہ نہیں‌چاہئے اس کو سہی یا غلط ثابت کرنے کے لئے۔ جانے کیوں‌خلق نے یہ شور مچا رکھا ہے !

    1. عامر کامران صاحب! جانچ بالکل ضروری ہے اور میں آپ کی اس بات سے بھی متفق ہوں آغا صاحب کے معمے کا بہت کم وقت میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
      باقی رہی توانائی کے بقا اور تھرموڈائنامکس کے قانون کی بات تو اس سلسلے میں میں ایک مثال عرض کرتا ہوں۔ فرض کریں ہم سطح زمین سے ایک پتھر اٹھا کر دس میٹر اپر عمارت کی چھت پر لے جاتے ہیں اب اس کام کے لیے ہمیں توانائی کی ضرورت ہے جس کی مقدار کا تعلق طے کردا بلندی اور پتھر کی کمیت کے ساتھ ہے۔ اب ہم پتھر کو چھت سے نیچے گرا دیتے ہیں تو وہ ہماری چھت تک لے جانے کے لیے لگائی گئی توانائی جو اس میں پوٹینشل انرجی کی صورت میں جمع ہو گئی تھی کو واپس لوٹا دے گا۔ اب لوٹائی گئی توانائی (بالواسطہ یا بلاواسطہ)لگائی گئی توانائی سے کبھی ذیادہ نہیں ہو سکتی۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو ہمیں کسی طرح کا کوئی فیول جلانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی توانائی کے حصول لیے پانی توڑنے کی ضرورت ہو گی۔ باقی بعض دعوے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو غلط کہنے کے لیے پریکٹیکل جانچ کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے میں کہوں کہ میں نے موٹر اور جنریٹر کو کپل کر کے چلایا ہے اور جنریٹر موٹر کو بجلی فراہم کرتا ہے اور موٹر جنریٹر کو گھماتی ہے اور اسے سسٹم سے میں بیرونی استعمال کے لیے بھی بجلی لیتا ہوں۔ کیا میرے اس کلیم کو پریکٹیکل جانچ کی ضرورت ہے؟؟

      1. جناب میں‌کچھ اور بات عرض کر رہا تھا ۔۔۔ تھرموڈائنامکس کے قانون تو مجھے بھی پتا ہیں

        1. شاید میں آپ مطلب ٹھیک سے نہ سمجھ سکا میرے خیال سے آپ کہنا چاہ رہے تھے کہ پانی کو توڑنے کے کئی ایک طریقے ہو سکتے ہیں جو آسان اور سستے ہوں؟ میرے ناقص علم کے مطابق ہم پانی کا بانڈ جب بھی توڑیں گے ہمیں انرجی درکار ہو گی اب یہ الگ بات ہے کہ وہ انرجی ہم کس واسطے سے حاصل کرتے ہیں۔ مثلا” فوسل فیول جلا کر ہم جو انرجی حاصل کرتے ہیں وہ اصل میں سورج کی دین ہوتی ہے۔

  7. بهارت كے ٹاٹا  يا ان جيسےبهت سےانڈسٹريلسٹ كو اگر يۂ پتۂ چل جاے تو وه اس سے فايدا اٹهاينگے اور اپكى ايك انڈسٹرى انكے  هاته لگ جايگى اسلئے اپ بلاگرز مل جل كر جتنى كٹس تيار كرواسكتے بلا تاخير كروالين 

  8. گاڑی چلتی کیسے رھی ؟ عباس اس کا جواب یوں دیتے ھیں کہ اغا وقار نے گاڑی میں کو خفیہ ایندھن نصب کیا ھوا تھا جس کی وجہ سے گاڑی چلتی رھی ۔۔ یا پھر ان کے خیال میں بیٹری پہلے سے ھی چارج تھی جس کی وجہ سے گاڑی چلتی رھی ۔ آخر میں وہ کوئی نتیجہ نہیں نکال پائے ۔ یہ ایک ایسا مضمون ھے جس میں مصنف پہلے سے ھی ایک مائنڈ سیٹ کے ساتھ لکھنے بیٹھا کہ میں نے اپنے مضمون میں ھر صورت آغا وقار کی مخالفت میں لکھنا ھے ، چاھے کوئی ٹھوس مواد ھو یا نہ ھو ۔ چاھے خود گاڑی کا معائنہ کیا ھو یا نہ کیا ھو ۔ حامد میر پر انہیں یقین نہیں ، ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر شوکت پرویز کی باتوں کو نظر انداز کر کے وہ تعلیم میں بہتری لانے کی تجویز لائے ، ایک ادھورا مضمون ، جس کی بنیاد صرف نفرت پر ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کیوں ؟ جب تک گاڑی کا معائنہ نہ کر لیتے تو اس وقت تک نہ لکھتے ؟ کیا حرج تھا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    1. جی اعوان صاحب! شاید آپ کو میرا نقطہ نظر کچھ یک طرفہ سا لگا ہو البتہ آغا وقار صاحب سے نفرت والی کوئی بات نہیں۔ دوسرا جہاں گاڑی کے معائنے والی بات ہے تو میں اسی طرح کی ایک گاڑی جو ڈاکٹر سرور صاحب نے بنائی تھی کا معائنہ کر چکا ہوں اور خود بھی پانی کے الیکٹرولسز کا تجربہ کر چکا ہوں۔

  9. آپ میرے فیس بک ایڈریس ghous.saeedپر تحریر بعنوان ’’سائنسی اصولوں کا عملی اطلاق‘‘ دیکھیں۔

  10. غوث سعید صاحب! آپ سائنٹیفک میتھڈ، تھیوری، عملی تجربات، سائنسی قوانین کے وجود اور اطلاق کو گولی ماریں! میں آپ کے لیے ایک سادہ سی مثال عرض کرتا ہوں۔ اگر کوئی بندہ دعوی کرتا ہے کہ میں صرف پانچ فیصد کمیشن پر آپ کا سرمیایہ یا زیور صرف ایک چٹکی بجا کر دوگنا کر سکتا ہوں۔ تو ایک صاحب عقل تو فورا” یہ نتیجہ نکال لے گا کہ اگر یہ بندہ آسانی کے ساتھ خود اپنے پیسے ڈبل کر سکتا ہے تو اسے کمیشن پر کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس لیے وہ تو بچ جائے گا مگر کئی سادہ لوح “آزمائش شرط ہے” کے چکر میں لٹ جایں گا۔

  11. السلام علیکم دوستو!
    آغا وقار کی ایجاد پر بحث پڑھ کر اچھا لگا۔ چلئے، انٹرنیٹ کی دنیا پر کچھ لوگ تو ہیں جو اس بحث کو سنجیدہ رُخ سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بلال میاں کے پاک اُردو انسٹالر سے مستفید ہونے کے بعد، انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ہٹ کر ان کی کوئی اور تحریر دیکھ رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اگر آپ احباب گلوبل سائنس کا شمارہ ستمبر ۲۰۱۲ء بھی دیکھ لیتے تو اس سے آپ کو نہ صرف یہ دعویٰ بلکہ اس نوع کے دوسرے دعووں کے بارے میں بھی تفصیل سے سمجھنے کا موقعہ میسر آجاتا۔ میرا مقصد گلوبل سائنس کی مشہوری ہر گز نہیں بلکہ میں اس بارے میں بہتر اور مبنی بر عقل بحث کو تقویت پہنچانا چاہتا ہوں۔

  12. آج رات 5-12-2012 رات کیپٹل ٹاک میں ڈاکٹر عطاء الرحمن نے آغا وقار کے کام کو درست قرار دیا ہے

    1. انيس احمد شاد صاحب! میں نے 2012-12-05 کا کیپٹل ٹاک دیکھا ہے اس میں ڈاکٹر عطاءالرحمن نے ایسا کوئی اقرار نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسے فراڈ ہی کہا، اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے دوبارہ یہ بات کی کہ آغا وقار کی واٹر کٹ کو ایک او لیول کا طالب علم آسانی سے غلط ثابت کر سکتا ہے۔

  13. اب اے آر وائی پر بھی آغا وقار کی پانی پر چلنے والی گاڑی دکھائی گئی ہے کیا آپ اب بھی اسے فراڈ ہی سمجھتے ہیں؟

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *