کوانٹم مکینکس
غلام عباس مرزا نے Sunday، 26 June 2016 کو شائع کیا.
   

کوانٹم مکینکساس موضوع سے جڑے پچیدہ ریاضیاتی پس منظر اور دقیق مساواتوں سے قطع نظر کچھ سادہ مثالوں سے “کوانٹم مکینکس” کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی پہلے کچھ باتیں کلاسیکل مکینکس بارے۔
سترھویں صدی میں کلاسیکل مکینکس کی باقاعدہ ابتدا مشہور انگریز سائنسدان سر آئزک نیوٹن نے کی تھی، اسی حوالے سے اسے نیوٹن کی مکینکس بھی کہا جاتا ہے۔ طبعیات میں کلاسیکل مکینکس قوت اور اس کے تحت اجسام میں پیدا شدہ حرکات کا علم ہے، مثلاً کلاسیکل مکینکس کے فارمولوں سے ہم اجسام کی حرکت، رفتار، مقام، گردش، حرکت کے راستے وغیرہ کا ٹھیک ٹھیک حساب لگا سکتے ہیں۔ ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ اگر بلئیرڈ کی حرکت کرتی ہوئی گیند دوسری گیند سے ٹکرائے گی تو کیا ہو گا؟ اور ٹکرانے کے بعد گیندیں کس سمت اور کتنے فاصلے تک جایں گی۔ ہم حساب لگا سکتے ہیں کہ توپ سے نکلنے والا گولا کس طرح کا راستہ بنائے گا اور کتنی دور جا کر گرے گا۔ ہم سیاروں کی گردش اور مداروں کا حساب لگا سکتے ہیں۔ اب بڑے اجسام تک تو ٹھیک ہے مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہمارا واسطہ ایٹم اور اس سے بھی چھوٹے اور انتہائی تیز رفتار ذرات سے پڑتا ہے، تب کلائسیکل مکینکس کے تمام کلئیے کام نہیں کرتے اور ان ایٹمی ذرات پر ان کا اطلاق نہیں ہو پاتا۔  تب ہمیں کلاسیکل مکینکس کی بجائے کوانٹم مکینکس سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ چلیں! اسے یوں سمجھتے ہیں۔
اگر آپ مجھ سے دریافت کریں کہ میں اس وقت کہاں ہوں؟ اور میرا جواب ہو، “میں 20 فیصد تو لاہور میں ہوں جبکہ 80 فیصد گجرات میں اور اس کے بیچوں بیچ بھی میرے ہونے کے امکانات موجود ہیں”، تو میرے اس جواب پر آپ کیا کہیں گے؟۔
اگر میں آپ کو بتاؤں کہ کل رات میں نے اپنی گاڑی گیراج میں کھڑی کر کے آہنی دروازہ بند کر دیا تھا مگر صبح دیکھا تو گاڑی گیراج کی موٹی دیواروں کے اندر سے رس کر باہر گلی میں آ گئی جیسے کوئی بھوت، تو میری اس رودار پر آپ کاردعمل کیا ہو گا؟۔
اگر میں کہتا ہوں کہ آج جب میں مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو مین ہال کے چار داخلی دروازوں میں سے کسی ایک سے گزرنے کی بجائے چاروں دروازوں سے بیک وقت گزر کر اندر داخل ہوا، تو آپ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟۔
اگر میں بتاتا ہوں کہ میرے گھر میں تین کمرے ہیں جن میں بستر لگے ہوئے ہیں اور میں رات کو تھوڑا تھوڑا چاروں بستروں پر موجود ہوتا ہوں، تو اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہو گا؟۔
اگر میں آپ کو بتاؤں کہ ہمارے اردگرد جو چیزیں ہیں یہ اصل میں لہریں ہیں لیکن جب ہم ان پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ٹھوس شکل اختیار کر لیتی ہیں اس لیے ہمارا یقین بن گیا ہے کہ یہ ٹھوس ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے تو میری اس بات پر آپ کیا کہیں گے؟۔
یقیناً آپ مجھے جھوٹا، خبطی، پاگل، کھسکا ہوا، چھوڑو یا کچھ ایسا خطاب دے کر آگے بڑھ جایں گے۔ اصل میں آپ نے ٹھیک ہی اندازا لگایا کیونکہ ہماری ساری زندگی میں کبھی بھی ایسا کوئی واقع رونما نہیں ہوا ہوتا، لیکن سائنسدانوں نے پایا کہ ایٹمی ذرات کی سطح پر ایسے عجیب واقعات معمول کی بات ہے مثلاً الیکڑان ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر موجود ہو سکتا ہے، ایک ہی وقت میں برقی مقناطیسی لہر بھی ہے اور ذرہ بھی، ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے ہوئے اس کا کوئی واضع رستہ نہیں ہوتا وغیرہ۔  کلاسیکل مکینکس سے ایسی باتوں کا حساب لگانا ممکن نہیں، لہٰذا اس کے لیے کوانٹم مکینکس بنانا پڑی جس میں کچھ ایسے کلئیے اور مساواتیں ہوتیں جن سے ایٹمی ذرات کے مذکورہ عجیب و غریب رویوں کا حساب لگانا بڑی حد تک ممکن ہو جاتا ہے۔

   


ایٹم کی کہانی
غلام عباس مرزا نے Friday، 12 February 2016 کو شائع کیا.

ہائی سکول میں پڑھائی گئی سائنس میں ہمیں ایٹم اور اس کی ساخت بارے جو کچھ بھی پڑھایا جاتا ہے اور جو بھی تفصیلات بتائی جاتی ہیں وہ اگر ہمیں نہ بھی یاد ہوں تو کم از کم دو چیزیں ضرور ذہن میں رہ جاتی ہیں، اوّل لفظ “ایٹم” اور دوسرا اس سے جڑا یہ […]

مکمل تحریر پڑھیے »

   


تلاش
غلام عباس مرزا نے Monday، 5 October 2015 کو شائع کیا.

بابا جی :- (جذبے کے ساتھ) “اُس کا ہر کام کرم، اُس کا ہر فعل عدل، دکھ بھی اُس کے، سکھ بھی اُس کے، میں بھی اُس کا تم بھی اُس کے”۔ میں:- “بابا جی! آپ زندگی کے ہر پہلو ہر معاملے کو خدا تعالٰی سے منسوب کرتے ہیں- آپ کی تعلیم ہمیشہ یہ ہی […]

مکمل تحریر پڑھیے »

   


Tags:-
وائلن
غلام عباس مرزا نے Tuesday، 6 January 2015 کو شائع کیا.

یہ اندازاً کوئی دس بارہ سال پرانا قصہ ہو گا جب میرے ایک بھتیجے کو یکا یک موسیقی کا شوق لاحق ہو گیا۔ فنون لطیفہ کی راہ پکڑنے کا یہ الہامی جذبہ اسقدر شدید تھا کہ اس نے نِری خواہش سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ٹھانی اور موسیقی کے معاملے میں عملی منازل طے […]

مکمل تحریر پڑھیے »

   


Tags:-
ہمدردی
غلام عباس مرزا نے Wednesday، 15 October 2014 کو شائع کیا.

شام ڈھل چکی تھی اور رات کا سرمگیں تسلط جمنے لگا تھا۔ پرندے گھروں کو لوٹ چکے تھے۔ ہوا ٹھہر گئی تھی، درخت خاموش تھے اور ندی کا پانی شانت۔ ندی سے ذرا ہٹ کر چراگاہ کے اس پار پیڑوں کے ایک چھوٹے سے جھنڈ میں جنگلی انجیر کے درخت کی ایک جھکی سی شاخ […]

مکمل تحریر پڑھیے »

   


چشمے پر چشمہ
غلام عباس مرزا نے Wednesday، 30 April 2014 کو شائع کیا.
کشش ثقل
غلام عباس مرزا نے Wednesday، 16 April 2014 کو شائع کیا.
روشنی
غلام عباس مرزا نے Saturday، 1 March 2014 کو شائع کیا.
افسردگی کا سایہ
غلام عباس مرزا نے Tuesday، 20 August 2013 کو شائع کیا.
کیلکولیٹر
غلام عباس مرزا نے Friday، 22 March 2013 کو شائع کیا.